دُختِ کرام — Page 487
۴۷۵ یاد کر کے ان کو اب آنسو بہا لیتا ہوں میں فخر مجھ کو ہے کہ میں ان کا تھا اک خدمتگذار ان کی برکت سے عطا کر ہم کو مولا برکتیں ہم بھی ان سے حصہ پائیں اسے میرے پروردگار آپ نے جو کہیں دُعائیں کل جماعت کے لیے مقبول ہوں ساری دُعا میں آج ہم ہیں اشکبار یادیں ان کی یاد کر کے آگے بڑھنا ہے ہمیں ہر جگہ پر آتے مولا بارغ احمد پہ بہار سب کے زخموں پر لگا مرہم تو اسے مولا کریم اور تسکین دے دل مضطر کو اے پروردگار روز وشب اختر دعا کرتا ہے ان کے واسطے قرب تیرا ان کو حاصل ہو میرے پروردگار