دُختِ کرام — Page 479
446 كُلُّ نَفْسٍ ذَائِقَةُ الْمَوْتُ ہے قرآن میں ہر کیں، کوئی نہیں ہے موت سے جس کو مغفر "خاک میں کیا صورتیں ہونگی کہ پنہاں ہو گئیں" یاد کر کے جن کو میرے پیشم و دل آتے ہیں بھر قاعدہ ہے زندگی میں قدر ہم کرتے نہیں بعد میں پھر یاد کرتے ہیں انہیں با چشم تر جانتے تو سب ہیں کہ یہ زندگی ہے بے ثبات پر نہیں یہ سوچتے کہ اس قدر ہے مختصر روح منزل پہ پہنچ آرام پا جاتی ہے والی ختم ہو جاتا ہے جب اس زندگانی کا سفر جانے والے چھوڑ جاتے ہیں وہ زخم بے نشاں کہ نپک جاتی نہیں سینے سے جن کی عمر بھر ہے ہمارے پاس تو لیس اک دُعاؤں کی سبیل کاش پیدا ہو ہماری بھی دکھاؤں میں اثر آسماں اس کی لحد پر نور افشانی کرئے رحمت حق یاں ہماری بھی نگہبانی کرے