دُختِ کرام

by Other Authors

Page 444 of 497

دُختِ کرام — Page 444

۴۳۲ میری چھوٹی بہین نعیمہ ناصر آف لاہور بھی تھی۔تو کہنے لگیں شاید آپ کو یاد ہوگا کہ ہم آپ کے گھر ٹھرے ہوتے تھے اس وقت آپ بہت چھوٹی تھیں۔میرے والد صاحب مرحوم آخری دنوں میں ذہنی طور پر کچھ مختل رہتے تھے ہر وقت در ثمین وغیرہ کی نظمیں پڑھتے اور مذہبی باتیں کرتے رہتے تھے۔صبح کو اونچی آوازہ میں نظمیں پڑھنے لگ جاتے تھے۔اور دعائیں بھی اونچی آواز میں پڑھتے تھے۔تو فرمانے لگیں ڈاکٹر صاحب پاگل نہیں تھے بلکہ مجذوب تھے۔ہر وقت مذہب کا جنون رہتا تھا۔در مشین کے اشعار اور دعائیں پڑھتے رہتے تھے تو پتہ لگتا رہتا تھا کہ ڈاکٹر صاحب جاگ رہے ہیں۔پڑوسی ہونے کے ناطے تحالف وغیرہ بھجواتی رہتی تھیں ایک دفعہ لیموں بھیجے کہ یہ میرے گھر کے ہیں اسی طرح پھول وغیرہ بھجواتی رہتی تھیں۔میری بچی فریده مسعود اس وقت چھوٹی تھی میں اس کو ساتھ لے کر جاتی میں نے اس کو بتایا کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیٹی ہیں اور آخری نشانی ہیں۔حضرت بیگم صاحبہ فریدہ کو پاس بیٹھا کہ اس کو پیار کرتیں اور مصافحہ بھی کرتیں بعض اوقات بیماری کی وجہ سے عام ملاقات کی اجازت نہ ہوتی لیکن ہمیں خاص طور پر ملنے کی اجازت دے دیتی تھیں کہ ڈاکٹر عتاب کی بیٹیاں آتی ہیں بعض دفعہ دروازے سے ہی دیکھ کر آجاتی تھیں کہ طبیعت ٹھیک نہیں ہے لیکن اکثر ملاقات ہو جاتی تھی مصافحہ کر کے دُعاؤں