دُختِ کرام — Page 434
۴۲۲۔۔جب میری شادی ہوئی میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ اللہ تعالیٰ اس طرح میری دستگیری فرماتے گا۔حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب نے محترم والد صاحب سے فرمایا کہ بچی کے لیے کوئی رشتہ آپ کی نظر میں ہے محترم والد صاحب نے عرض کی۔میری نظر میں اس وقت کوئی مناسب رشتہ نہیں آپ ہی رشتہ تجویز فرمائیں۔چنانچہ کچھ عرصہ بعد حضرت نواب صاحب نے سندھ کی اراضی سے مکرم شیخ عنایت اللہ صاحب کو بلوایا جو وہاں ملازم اور اپنے خاندان میں سے اکیلے احمدی تھے اور والد صاحب کو فرمایا کہ نوجوانی میں اس قدر نیک اور عبادت گذار انسان میری نظر میں اس نوجوان سے زیادہ نہیں گذرا چنانچہ میری شادی ان سے ہو گئی۔اور میں حضرت نواب صاحب حضرت بیگم صاحبہ اور دیگر بزرگان کی مخلصانہ دُعاؤں کے جلو میں رخصت ہو کہ سندھ آگئی اجنبی زمین جنگل بیابان اپنوں سے دور بڑی گھبرائی، لیکن وہ دعائیں سمارا نہیں اور خدا تعالیٰ نے اس قدر فضل فرماتے کہ شمار نہیں۔مجھے اللہ تعالے نے پانچ بیٹے اور چھ بیٹیاں عطا فرمائیں۔سارے بیٹے خدا تعالیٰ کے فضل سے برسر روزگار شادی شدہ۔اسی طرح ساری بیٹیاں شادی شدہ صاحب اولاد اور خدا کے فضل سے سارے نیک سیرت احمدیت کے فدائی اور والدین کے فرمانبردار اور خدمت گزار ہیں۔اللہ کا دیا بہت کچھ ہے اور یہ صرف اور صرف حضرت سیدہ مرحومہ کی دعاؤں کا ہی نتیجہ ہے۔