دُختِ کرام

by Other Authors

Page 409 of 497

دُختِ کرام — Page 409

تھی مجھے سن کر بہت دکھ ہوا۔میں نے آپ کی توجہ ہٹانے کے لیے کچھ ادھر ادھر کی باتیں اور بچوں کی باتیں سنائیں پھر مذاقا کہا کہ کبھی آپ نے اپنا چہرہ شیشے میں دیکھا ہے کس قدر حسین اور پیارا ہے اس پر کوئی جھری نہیں اس عمر میں کسی کا ایسا صاف شفاف چہرہ نہیں ہوتا۔مجھے دیکھیں آپ لیلی کو کھیں ہم آپ کے سامنے عمر میں بڑی لگتی ہیں آپ ذرا بھی بیمار نہیں لگتیں ہیں آپ کو صرف خیال ہے آپ کھاتی کچھ نہیں۔کھائیں تو آپ کی کمزوری دور ہو۔میں بولتی رہی اور آپ مجھے دیکھ کر مسکراتی رہیں پھر میں نے کہا کہ آپ فلاں چیز کھائیں۔پھل کھائیں آپ نے فرمایا میرے حلق سے یہ چیزیں اترتی ہی نہیں۔ایسے لگتا ہے جیسے پیٹ پر وقت بھرا ہوا ہو میں نے عرض کیا اچھا اور کچھ نہیں تو مکھن کو دوائی سمجھ کر ایک چمچہ چائے کے گھونٹ گزار لیا کریں آخر آپ اتنی دوائیاں کھاتی ہیں۔چنانچہ دوسرے دن میں گھر سے مکھن نکال کرنے گئی۔اور کھانے کے لیے اصرار کر کے آئی۔دوبارہ گئی تو خادمہ نے بتایا کہ بیگم صاحبہ وہ مکھن ناشتہ میں کہہ کر منگواتی ہیں۔کر قیوم جو گن لاتی تھی دو لا ؤ پھر جیسے آپ نے کہا تھا اسی طرح ایک چھ بڑی مشکل سے کھا لیتی ہیں۔مجھے یہ سن کر بڑی خوشی ہوئی اور ملنے پر فرمایا۔قیوم تم جو کمی لائی تھی وہ میں نے کھا لیا ہے تمہارے کھن کا بنگ بہت سفید اور خوبصورت تھا۔مجھے بہت اچھا لگتا تھا۔با در چی جو مکھن نکالنا ہے اس کا رنگ مجھے پسند نہیں اور میرا دل نہیں کرتا کھانے کو۔آپ کو پہلو میں چوٹ لگ گئی۔آپ کو بہت تکلیف تھی۔میں گئی تو