دُختِ کرام

by Other Authors

Page 407 of 497

دُختِ کرام — Page 407

۳۹۵ ساتھ فرمایا۔تم یہ بتاؤ کہ تمہیں الہام ہوتا ہے۔مجھے جہاں حیرت تھی وہاں بے انتہا خوشی بھی ہوتی۔میں نے پوچھا بیگم صاحبہ کیا بات ہوتی ہے آپ نے بڑے مزے سے مسکراتے ہوئے پیار بھرے لہجے میں فرمایا۔میرا بڑا دل چاہ رہا تھا تمہیں ملنے کو ابھی ابھی میں تمہیں یاد کر رہی تھی ، لیکن پریشان تھی کہ تمہارے گھر کس کو بھجواؤں۔اسلم کو بھی تمہارے گھر کا پتہ نہیں تم کسی طرح اتنی جلدی آگئی ہو۔تمہیں کس نے بتایا ہے کہ میں یاد کر رہی ہوں مجھے تم سے ضروری کام تھا۔اسی طرح ایک دن میں آپ کی ملاقات کے لیے گئی تو آپ سورہی تھیں میں کچھ دیر انتظار کے بعد اُٹھ کر چلی آتی کیونکہ نماز کا وقت بھی ہونے والا تھا۔جب میں آپ کی کوٹھی کی سڑک کے آخری موڑ پر پہنچی تو مجھے پیچھے سے آواز آئی جیسے کوئی کہ رہا ہے کہ آپ کو بیگم صاحبہ بلا رہی ہیں میں کبھی کہ پہریدار میرے پیچھے مجھے بلانے آیا ہے۔میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو سٹرک پر اور آپ کے گیٹ پر کوئی نظر نہیں آیا۔میں اس کو اپنا خیال سمجھے کہ گھر آگئی، لیکن جب میں دوبارہ آپ کے ہاں گئی تو آپا سیلی نے مجھے بتایا کہ اس دن تم نکل کر گئی ہو کہ بیگم صاحبہ کی آنکھ کھل گئی۔جب میں نے آپ کو بتایا کہ قیوم بھی آئی تھی اور اب واپس چلی گئی ہے تو آپ نے فرمایا جاؤ اس کو بلا لاؤ۔وہ کہتی ہیں کہ میں تمہارے پیچھے گیٹ تک بھائی گھتی ہوں۔لیکن پہرے دار نے بتایا کہ وہ تو جا چکی ہیں وہ کہتی ہیں کہ بیگم صاحبہ کو بہت افسوس ہوا۔آپ نے فرمایا کہ تم نے اس کو ٹھرا لینا تھا۔میری تو تھوڑی دیر کے