دُختِ کرام — Page 401
۳۸۹ ز تھا جس کو ایک بار آپ سے ملنے کا موقع ملا۔اس پر آپ کے تقدس کے گہرے نقوش مرتب ہو جاتے۔بار بار منے کو جی چاہتا ہر بار ملنے سے ایمان تازہ ہوتا۔اور اس میں مزید اضافہ ہوتا دل سکون پاتا۔بڑھا پا تھا۔بیمار جسم لیکن آپ کی بشاشت قلبی اور خوش خلقی میں کوئی کمی نہ تھی۔لباس عمدہ اور عمر کی مناسبت سے ہوتا آپ کے پاس سے ہر وقت ہلکی ہلکی مہک آتی درہتی تھی۔غرض آپ کی ذات اخلاق کریمانہ کی حامل تھی آپ کے اندر پہاڑ جتنا حوصلہ تھا ایک جوان اور بہا در دل تھا۔کمال درجہ کی صابر اور شاکر تھیں لفظوں میں اتنی وسعت نہیں کہ وہ سب خوبیاں بیان ہوسکیں جو آپ میں تھیں جہاں آپ پر خدا تعالیٰ کے ان گنت فضل و کرم تھے وہاں آپ نے بھاری غم بھی اُٹھاتے ، لیکن آپ کو دیکھ کر حیرت ہوتی تھی کہ کسی قدر بلند حوصلگی اور صبر سے ان کو برداشت کیا۔اپنے پیارے اور مقدس عزیز ایک ایک کر کے آپ سے جدا ہوتے گئے۔جلیل القدر ماں باپ بہن بھائی آپ کے میاں نیز سب سے چھوٹے داما در حضرت مرزا ناصر احمد صاحب خلیفه امسیح الثالث حضرت سیده منصوره بیگم صاحبہ سب آپ کے سامنے اس فانی دنیا سے رخصت ہو گئے لیکن آپ نے کبھی بھی صبر کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑا بلکہ اپنے رب کریم کی رضا پر صابو شاکر رہیں بڑے صبر و تحمل کا منظر تھیں یہ سب رب العالمین کے ساتھ گہرے تعلق اور سیتی وابستگی اور تقویٰ کا پر تو ہی تو تھا۔آپ کا وجود آپ کے بلند پایہ اخلاق کی وجہ سے آپ کے اعلیٰ حسب