دُختِ کرام — Page 326
۳۱۴ رشتہ میں ان کی بھائی لگتی تھیں۔ان کے میاں گورنمنٹ کے کسی اعلیٰ عہدے پر فائز تھے۔شروع میں وہ شاید ہمیں جاہل اور ان پڑھ سمجھ کر ہمارے برقعوں کو تضحیک کی نظر سے دیکھتیں۔زیادہ مل جل کر بھی نہ رہتیں۔خدا تعالیٰ کو شاید به کبر پسند نہ آیا۔ایک دن ہم اکٹھے شاپنگ کے لیے گئے۔پیرس کا بہت بڑا سٹور تھا۔جانے سے پہلے ہماری میزبان نے بتایا کہ آج کل الجیریا اور فرانس کا جھگڑا چل رہا ہے۔اور برقع پوشوں کو خصوصاً الجیریا کا سمجھ کر تنگ کرتے ہیں۔ہم سب سٹور میں پھرتے رہے اور کوئی غیر مولی واقعہ پیش نہ آیا۔کچھ دیر بعد امی کو ضعف محسوس ہوا۔ہم دونوں اپنے میزبانوں کو بتا کر باہر آگئے۔کافی وقت گذر گیا رات ہونے لگی اور وہ واپس نہ آئے ہیں اور امی بہت پریشان تھے۔امی کی طبیعت بھی بہت خراب تھی۔خدا خدا کر کے وہ لوگ آتے نظر آتے بہت گھبرائے ہوتے تھے۔معذرت کی اور بتایا کہ بھائی جان سے بہت بڑی ہوئی۔سٹور سے لکھتے ہوئے ان کو روک لیا۔اور ان کا بیگ چیک کیا۔تو اس میں سے چند ایسی چیزیں نکلیں جن کی قیمت نہ ادا کی تھی بڑی مشکل سے ایمبیسی کے ذریعہ معاملہ رفع دفع کروایا۔بھائی جان مصر تھیں کہ انہوں نے یہ چیزیں نڈالی