دُختِ کرام

by Other Authors

Page 327 of 497

دُختِ کرام — Page 327

۳۱۵ تھیں اور ہمارے میزبانوں کا خیال تھا کہ الجیریا کا سمجھ کر سٹور والوں نے ان کو ذلیل کرنے کے لیے یہ کام کیا ہے۔اس واقعہ کے بعد بھائی جان کے رویہ میں بھی زمین آسمان کا فرق پڑ گیا۔یا تو بات کرنی گوارا نہ تھی۔یا ہر وقت السفات برتیں۔جب بولنے لگیں تو بہت حیران ہوئیں کہ یہ تو پڑھے لکھے لوگ ہیں۔اپنے کمرے میں آکر امی نے خدا کا شکر ادا کیا کہ کسی طرح اس نے محض اپنے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیٹی کی عزت رکھی۔ورنہ ہمارے برتھے تو زیادہ قابل گرفت تھے۔خدا تعالٰی کی اس تائید و نصرت کا اکثر ذکر فرمائیں۔ہمارے میز بانوں پر بھی اس واقعہ کا خاص اثر تھا اور خدا تعالیٰ کی ہمارے ساتھ تائید کا احساس۔سالوں تک ان میاں بیوی کے کارڈامی کے پاس آتے رہے۔وفات سے تین چار سال قبل امی لاہور آئی تھیں ان کا خاص طور پر نہ جانے کس طرح پتہ کرا کر منے آئیں۔میں پچیس سال گزرنے کے بعد بھی ملنے کے لیے آنا بتاتا ہے کہ ان لوگوں پر امی کی شخصیت کا گہرا اثر تھا۔۔۔۔۔