دُختِ کرام

by Other Authors

Page 304 of 497

دُختِ کرام — Page 304

۲۹۲ ملحوظ رکھا۔میں نے اکثر آبا کو کہتے سناکہ میں تو کچھ بھی نہیں میرے جیسے نوابی خاندان کے لوگ دھکے کھاتے پھرتے ہیں مجھے تو جو کچھ ملا حضرت مسیح موع علیہ السلام کی بیٹی کے طفیل ملا۔آپا سیدہ بشری نے مجھے بتایا کہ ایک دفعہ ابا امی کے ساتھ وہ اور آپا قدسیہ ڈلہوزی میں سیر کے لیے جا رہے تھے راستے میں اتی کا تسمہ کھل گیا۔ابا نے فوراً مجھک کر تسمہ باندھ دیا پھر ان لڑکیوں سے مخاطب ہو کر فرمایا : یہ اُمید اپنے خاوندوں سے نہ لگا بیٹھنا میں توان کی عزت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیٹی سمجھ کر کرتا ہوں۔غرضیکہ ایسے بے شمار واقعات میں، لیکن اتنی نے بھی صحیح معنوں میں حضرت مسیح موعو علیہ السلام کی بیٹی بن کر دکھایا۔ابا کی طویل اور خطرناک بیماری میں جس پیار محبت اور جانفشانی سے انہوں نے اپنے شوہر کی خدمت کی وہ اہلی زندگی کے لیے ایک قابل تقلید مثال ہے۔میں تقریباً سات سال کی تھی جب ابا کو دل کا شدید حملہ ہوا۔مہینوں تک تو زندگی کی بھی امید نہ ہ ہی تھی۔ہم بچوں کو ابھی اتنا شعور نہ تھا، لیکن امی کی روتی ہوئی متورم آنمیں اور گھر پر چھاتے ہوئے سکوت سے دل بسم سہم جاتا تھا۔ان حالات کا امی نے بڑی دلیری سے مقابلہ کیا۔چھوٹے چھوٹے بچے نئی نئی ہجرت مالی وسائل کی کمی غرضیکہ سینکڑوں مسائل تھے تاہم امی نے بڑے صبر اور حوصلے سے یہ وقت کاٹا۔ساری ساری رات اور دن مہینوں ابا کی پٹی سے لگی بیٹھی رہتیں۔نہ کھانے پینے کا خیال تھا نہ کپڑوں کا ہوش سارا خاندان خدمت کے لیے حاضر تھا۔لیکن اتی کا دل آبا