دُختِ کرام — Page 272
۲۶۰ تو دکھا کیوں نہ نکلے گی۔بچوں کو پیار۔-- امة الحفيظ " میرے والد محترم بہت زود رنج اور بہت زیادہ حسین ظنی کی طبیعت کے مالک تھے زور رنجی کے باوجود بہت جلد دل صاف ہو جاتا تھا۔کینہ تو سخت سے سخت دشمن کے خلاف بھی نہ تھا۔آپ کی زور ریجی اور انتہا کی حسن ظنی سے فائدہ اُٹھاتے ہوئے بعض مفاد پرستوں نے انہیں اس عاجز سے ناراض بھی کیا، لیکن والد مرحوم وقتی جوش پر ناراض تو ہو گئے ، لیکن بعد میں اپنے خطوں اور گفت گو میں میری محبت دلجوئی فرماتے تھے۔بلکہ ایسے تعریفی کلمات کہہ جاتے تھے جن کا میں ہرگز اہل نہ تھا۔اور یہ بات ان کی انتہائی حسن فلنی کا خاصہ تھا۔حضرت والد صاحب کی یہ ناراضگی مجھے بہت پریشان کر دیتی تھی۔اس پریشانی میں ایک دفعہ میں اپنے محسن حضرت مولوی غلام رسول صاحب را جیکی کی خدمت میں حاضر ہوا اور اپنی تکلیف کا حال سنایا۔حضرت مولوی صاحب نے خدا تعالیٰ سے دُعا کی اور دعا کے بعد فرمایا کہ مجھے ابھی الہام ہوا ہے کہ لَمْ يُكُن جباراً عَصِيباً۔یعنی یہ عاجز ظالم نافرمانبردار نہیں ہے۔اس عاجز نے یہ واقعہ محض اس لیے لکھ دیا ہے کہ میری والدہ مرحومه کا خط حضرت مولوی صاحب کے الہام کی واضح تصدیق کرتا ہے۔حضرت والدہ صاحبہ مرحومہ ، حضرت والد صاحب کے دل میں اگر کبھی غلط فہمی پیدا ہوتی اسے دُور کرتی رہتی تھیں۔اس کا اعتراف انہوں نے اپنے خطوں میں