دُختِ کرام

by Other Authors

Page 261 of 497

دُختِ کرام — Page 261

۲۴۹ کہ مجھے یاد کر کے تکلیف ہوگی سب کو روک دیا تھا۔کہ میرے سامنے کوئی حضر مسیح موعود علیہ اسلام کا ذکر کرے۔بتایا کرتی تھیں کہ میں بھی اتنا سم گئی تھی کہ ایک وفعہ بچوں سے کھیلتے کھیلتے کسی بات پر میرے منہ سے اتنا نکل گیا تو میں نے ڈر کے مارے ادھر اُدھر دیکھا کہ کہیں اماں جان نے سُن تو نہیں لیا۔فرمایا کرتی تھیں اگر حضرت اماں جان اس طرح بھلانے کی کوشش نہ کرتیں تو چار سال کا بچہ اچھا بھلا یاد رکھ سکتا ہے امی جان میں غیر معمولی صلاحیتیں تھیں۔میں اکثر سوچا کرتی تھی کہ حالات نے ان کو فرصت نہ دی ایک روز میری چھوٹی بہن فوزیہ نے مجھے بتایا کہ ایک دن میں نے امی کو کہا امی میں اکثر سوچتی ہوں کہ آپ میں اتنی صلاحیتیں ہیں مگر وہ سب دبی ہوتی ہیں" رامی جان اور فوزیہ آپس میں دل کی بات کر لیتی تھیں ) اس نے بتایا کہ میرا یہ کہنا تھا کہ اتھی کے ٹپ ٹپ آنسو گرنے لگے۔امی جان کو دیکھ کر میں اکثر سوچا کرتی تھی کہ جو بچے بہت چھوٹی عمر میں قیم ہو جاتے ہیں وہ کبھی اُبھرتے نہیں۔اس وقت جو سم ہوتا ہے اس کا اثر ساری عمر ساری زندگی اور شخصیت پر ہمیشہ کے لیے پڑ جاتا ہے۔حضرت اماں جان کی بے انتہا محبت ابا جان کی غیر معمولی محبت اور پیار اور ہر طرح کا خیال مگر امی جان کو دلیر نہ کر سکا۔کہیں جانا ہوتا تھا تو ضرور چاہتی تھیں کہ میری بیٹیوں میں سے کوئی ساتھ ہو۔ہمیشہ سمارا چاہتی تھیں۔بیماری کے آخری ایک دو مینے من گذشتہ دنوں کی بہت باتیں کرتی تھیں اور طبیعت کمزور ہونے کی وجہ سے جب