دُختِ کرام — Page 260
۲۴۸ کہانی سن کر سوتی تھیں۔حسن انتظام۔انی جان میں غیر معمولی انتظامی قابلیت تھی۔اب تو کئی سال سے ایک طرح سے بستر پر ہی تھیں۔چلنا پھرنا بالکل ختم تھا۔گھر بستر پر بیٹھے ہی سب انتظام اس طرح کرواتی تھیں کہ بیمار کا گھر نہیں لگتا تھا۔جلسہ سالانہ جب ہوتا تھا۔ربوہ والوں کو مہمانوں کے لیے بہت تیاری کرنا پڑتی تھی اچانک آنے والے مہمانوں کے لیے اکثر کھانے بھی کچے پکے پکا کر رکھنے ہوتے تھے۔بستروں کا انتظام وغیرہ اور بھی بہت سے کام ہوتے تھے۔گرامی جان نے یہ سب کام ہمیشہ وقت سے پہلے تیار کروا کے رکھے ہوتے تھے۔بہت دور اندیش طبیعت تھی۔امی جان کے پاس کھانا پکانے والی اگر عورت آئی ہے یا باورچی جس کو بھی تھوڑی بہت کھانا پکانے کی سُدھ بدھ ہوتی وہ تھوڑے دنوں میں ایسا عمدہ کھانا پکانے لگ جاتا تھا کہ حیرت ہوتی تھی۔کیونکہ امی جان کا یہ طریق تھا کہ اکثر کھانے کی ترکیب خود بتاتی تھیں۔ویسے ہم نے کبھی امی جان کو ہاتھ میں چمچہ پکڑتے نہیں دیکھا۔میں سوچا کرتی تھی کبھی خود پکایا نہیں مگر کس طرح سارے کھانوں کی ترکیب سمجھا کرتی دیتی تھیں۔امی جان کو اس بات کا بے حد دکھ تھا کہ مجھے حضرت مسیح موعود علیہ السلام یاد نہیں۔فرمایا کرتی تھیں کہ ان کی وفات کے بعد حضرت اماں جان نے اس لیے