دُختِ کرام — Page 236
۲۲۴ دو۔لیکن آخر میری ضد غالب آتی اور سکول آمد درخت کا انتظام بذریعہ تانگہ ہوا۔جب حضرت باجی جان کو پتہ چلا تو فوراً میری اماں کو کھلا بھیجا کہ بچیوں کو دھوپ لگ جائے گی ان کو ٹھنڈی جگہ کی عادت ہے۔میری بیٹیاں کار میں سکول جاتی ہیں میرا اور آپ کا گھر ساتھ ساتھ ہے۔آپ یتختلف نہ کریں اور ہرگز کسی بات کا احساس یا فکر نہ کریں تو یہ کار آپ کی ان دونوں بچیوں کو بھی لے لے گی۔اکٹھے سب کی آمدو رفت ہوگی۔ریہ ان دنوں کی بات ہے جبکہ میں چوتھی اور ناصرہ میری بہن غالباً تعمیری کلاس میں تھیں ، سو اس طرح چند روز ہوتا رہا۔پھر ہم واپس چلے گئے۔یہ آپ کی انتہائی نیکی و تقوی اور بے لوث ہمدردی کی زندہ مثال ہے بڑے خلوص سے ہمیں ٹانگے میں دھوپ کی کوفت سے بچانے کے لیے اپنی گاڑی کو OFFER کرنا۔ہمارا جب کبھی بھی قادیان آنے کا اتفاق ہوتا اور آپ کو ہمارا پتہ چلتا تو اسی وقت آپ کا پیغام آجاتا میری اماں مرحومہ کی طرف کہ میں گاڑی بھیجو اؤں گی اور ساتھ خادمہ بھی ہوگی اور اس سے بڑھ کر یہ کہ بزرگ صاحبہ" میری بڑی پھوپھی جان بھی ساتھ ہی آجائیں تاکہ آپ کو بچوں سے متعلق تستی رہے کیونکہ آپ نے یہ سُنا ہوا تھا کہ میرے ابا جان بیٹیوں کو ادھر اُدھر بغیر اماں کے بھجوانے کے خلاف تھے۔حضرت با جی جان خود بڑی خاموش دُعا گو تھیں باوجود اپنے ایک خاص مقام کے سلسلہ کے بزرگوں کی بہت قدر دان اور ان کو اکثر دعاؤں