دُختِ کرام

by Other Authors

Page 237 of 497

دُختِ کرام — Page 237

۲۲۵۔۔کی تاکید کے ساتھ پیغام بھجوایا کرتیں۔جیسے میرے دادا جان حضرت ڈاکٹر سید عبد الستار شاہ صاحب یا میری تمام پھوپھیاں - اور جب کبھی خاص دعاؤں کی ضرورت سمجھتیں آپ بڑی پھوپھی بزرگ صاحبہ کو گھر بلا کر ان سے دُعائیں کروائیں۔اسی طرح میرے چھاؤں کو بھی دُعاؤں کے خطوط یا پیغام آتے۔جو اپنے تئیں انتہائی انکساری کا اظہار کرتے اور یہ کہتے کہاں آپ کا اپنا مقام ! اور کہاں ہم ! اور یہ کہ۔یہ آپ کی محض حسن نطقی ہے رتن بارغ رہ ہو ر ) میں ہم سب رہار میش کے بعد ) اکٹھے رہا کرتے تھے ان دنوں نونو کی آمد آمد تھی۔اصل میں اس بچی کا نام عائشہ امتہ الہاتی ہے اور یہ کچی آپ کی نواسی میں جو کہ عزیزہ محترمہ طیبہ بیگم صاحبہ اور محترم مرزا مبارک احمد صاحب کی بیٹی ہیں۔اس بچی سے پہلے سوائے ایک بیٹے جیسی" کے غالباً تین یا چار بچے ضائع ہو چکے تھے۔باجی جان۔چلتے پھرتے جب مجھے سے ملتیں دُعا کی یاد دہانی کروائیں۔میں اپنے دل میں عجیب طرح خفیف ہو کر رہ جاتی۔اس خیال سے کہ کیا میں اور کیا میری دُعا ! یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل وکرم سے حضرت فضل عمر حضرت اماں جان اور حضرت بڑی بیگم صاحبہ سب کی دعاؤں اور تضرعات کو قبول فرمایا۔ایک دن شام کے قریب میں نے ایسے ہی کچھ پھل اور تھوڑی مٹھائی باجی جان کو بھیجوائی۔اور مجیب اتفاق کہ آپ نے ابھی اس میں سے کوئی چیز کھائی ہی نہ تھی کہ نو نو کی پیدائش اور