دُختِ کرام

by Other Authors

Page 233 of 497

دُختِ کرام — Page 233

۲۲۱ چھوڑنا بھی مشکل تھا اور ادھر حضرت اماں جان کی طبیعت بھی دن بدن گر رہی تھی آخر اپنی بیٹی کو ان کے پاس چھوڑ کر آپ ربوہ آگئیں اور حضرت اماں جان کی خدمت کرتی رہیں۔حضرت اماں جان کی وفات اور تدفین کے اگلے روز آپ لاہور واپس چلی گئیں۔حقیقت یہ ہے کہ میری تو تربیت ہی میرے سُسرال میں ہوتی اور حضرت اماں جان کی ذاتی توجہ حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ حضرت نواب مہار کہ بیگم صاحبہ اور حضرت سیدہ امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ سے بہت کچھ سیکھا۔آپ بہت وسیع القلب - بہت خوش اخلاقی۔اور بہت وسیع النظر تھیں۔ایک دفعہ بعض غلط فہمیوں کی بنا پر میرے اور میرے ایک عزیز کے درمیان کچھ کشیدگی ہو گئی آپ کو اس کا علم ہوا تو آپ نے اپنی خدا داد فراست سے کام لیتے ہوئے وہ کشیدگی فوراً ڈور کروا دی۔آپ میں برداشت کا مادہ کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا تھا۔آپ نے اپنے شوہر اور داماد کی المناک وفات کے دو بڑے صدمے زندگی میں برداشت کتنے جس سے آپکی صحت دن بدن گرتی چلی گئی۔خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بنیاد جن ستونوں پر رکھی گئی آپ کا وجود ان میں سے آخری ستون تھا۔گلشن احمد کے یہ پھول اپنی اپنی مہک دکھلا کر رخصت ہو گئے۔اب ہم سب نے اس مہک کو سدا قائم رکھتا ہے۔اللہ تعالٰی آپ کی روج پر اپنے بے شمار فضل نازل کرے اور میں اپنی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ر ماہنامہ مصباح جنوری فروری مشكلة )