دُختِ کرام

by Other Authors

Page 191 of 497

دُختِ کرام — Page 191

149 دونوں میں سے ایک میں شائع کیا گیا اور پھر اس کے بعد لڑکی پیدا ہوئی جس کا نام امتہ الحفیظ رکھا گیا اور وہ اب تک زندہ ہے ) حقیقة الوحی ص ۲۱۸ ) وخت کرام کے نام کا مطلب ہے کہ کریم بنفس لوگوں کی اولاد ایسے بزرگوں کی اولاد جو اخلاق کریمانہ پر فائز ہوں۔مراد یہ ہے کہ جس طرح ہم دوسر محاورے میں کہتے ہیں کہ اس کے خون میں شرافت اور نجابت ہے تو ان معنوں میں کریم لوگوں کی اخلاق والے لوگوں کی بزرگوں کی اولاد سے مراد یہ ہے کہ ایک ایسی بچی جس کے خون میں ہی کریمانہ اخلاق شامل ہونگے۔اور جو بھی حضرت سیدہ امرا الحفیظ بیگم صاحبہ کو جانتے تھے یا جو جانتے ہیں وہ خوب گواہی دیں گے کہ آپ کے خون اور مزاج میں کریمیانہ اخلاق شامل تھے اس سے پہلے حسن بچی کا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ذکر فرمایا ہے اس کا نام امتہ النصیر تھا اور حضور کو امتہ الحفیظ کا یعنی دخت کرام کا جو تحفہ عطا ہوا۔وہ دراصل اس پہلی بیکی کی وفات پر صبر کرنے کے نتیجہ میں ایک خاص پھل تھا اور ایک خاص انعام چنانچہ حضور نے اس بچی کا بھی انتالیسویں نشان کے طور پر ذکر فرمایا ہے چونکہ ان دونوں کی ولادت کا ایک روحانی تعلق ہے اس لیے میں اس بچی کے متعلق بھی اور خاص نشان کے متعلق بھی احباب مناعت کو مطلع کرنا چاہتا ہوں۔اس بچی کی پیدائش ۲۸ جنوری ساتہ کو چار بجے صبح ہوئی میں کا نام امتد النصیر رکھا اس کی پیدائش سے بہت تھورا عرصہ یعنی قریباً چار گھنٹے