دُختِ کرام

by Other Authors

Page 169 of 497

دُختِ کرام — Page 169

۱۵۷ فت محمود کے سامنے والی سڑک پر آیا۔اور چوک یاد گار والی سٹرک سے ہوتا ہوا دار نیا کے سامنے سے گذر کر بہت مبارک والی سڑک پر لایا گیا۔اور سرگودھا روڈ سے گذر کر بہشتی مقبرہ کے مغربی گیٹ سے داخل ہو کر چار دیواری میں پنچایا گیا۔اس سارے راستہ پر بھی دو موٹر سائیکل سوار خدام الاحمدیہ کی گاڑیاں اور ڈیوٹی دینے والے خدام ہمراہ رہے مجموعی طور پر ۳۰۰ کے قریب فلام جنازہ کے انتظامات میں شریک تھے۔چار دیواری کے ارد گرد بھی خدام کا ایک حلقہ موجود تھا۔اور چار دیواری کے اندر محدود گنجائش کے پیش نظر محدود افراد ہی کو اندر جانے کی اجازت تھی۔آخری آرام گاه صدر انجمن احمدیہ نے حضرت سیدہ مرحومہ کے مزارہ کی جگہ حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ نوراللہ مرقدہ کے پہلو میں متعین کی تھی لیکن اس مزار کے پہلو میں مطلوبہ گنجائش نہ ہونے کی وجہ سے سید نا حضرت خلیفہ ایسیح الرابع ایده اللہ تعالیٰ سے لندن رابطہ قائم کیا گیا اور حضور کے ارشاد کے مطابق چار دیواری میں شرقی سمت توسیع کی گئی اور وہاں تدفین ہوئی۔حضرت سیدہ مرحومہ کی نماز جنازہ اور تدفین میں شامل ہونے کے لیے پاکستان کے دور دراز علاقوں سے بھی احمدی مرد و خواتین طویل سفر کرنے آئے۔کراچی کوئٹہ پشاور کے علاوہ اندرون سندھ کے دبیات بها و شگر کے دور دراز کے دبیات اور پنجاب کے دیہاتی اور شہری علاقوں