دُختِ کرام — Page 167
100 خواتین نے حضرت سیدہ مرحومہ کا آخری دیدار کیا۔جنازہ کی بیت اقصی روانگی اگر چہ پہلے یہ پروگرام تھا کہ نماز جنازہ زنانہ جلسہ گاہ کے احاطہ میں ادا کی جائے گی، لیکن رات کو بارش ہو جانے کی وجہ سے نماز جنازہ بیت اقصیٰ میں ادا کئے جانے کا اعلان کر دیا گیا۔چنانچہ حضرت مرحومہ کا جسد خاکی متی شام پونے پانچ بجے سفید رنگ کے لکڑی کے تابوت میں جس کے اندر اور باہر جیت کی چادر لگی ہوئی تھی بیست اقصی لے جایا گیا۔تابوت فضل عمر ہسپتال کی ایمبولینس میں رکھا ہوا تھا۔جسے مکرم عبدالشکور صاحب ڈرائیو کر رہے تھے اور اس میں حضرت سیدہ مرحومہ کے تینوں صاحبزادگان مکرم نواب زادہ عباس احمد خان صاحب - محرم نواب زادہ شاہد احمد خان صاحب اور مکرم نواب زاده مصطفی احمد خان صاحب کے علاوہ محترم صاحبزادہ مرزا خورشید احمد صاحب ایڈیشنل ناظر علی صدر انجمن احمدیه محترم صاحبزاده مرزا غلام احمد صاحب ایڈیشنل ناظر اصلاح دارشاد (مقامی اور صاحبزادہ مرزا مجیب احمد صاحب بھی موجود تھے۔جنازہ کے آگے دو مستعد خدام موٹرسائیکلوں پر بطور پائلٹ چل رہے تھے اس کے بعد ایک مجلس غلام الاحمدیہ کی گاڑی اور دو گاڑیاں فلم بنانے والے مودی کیمرہ والوں کی تھیں۔ایک فلم مکرم صاحبزادہ ڈاکٹر مرزا مبشر احمد صاحب بنا رہے تھے اور دوسری فلم مکرم ملک نسیم احمد صاحب - ایک گاڑی حفاظت کی غرض سے ایمبولینس