دُختِ کرام

by Other Authors

Page 161 of 497

دُختِ کرام — Page 161

۱۴۹ لیکن ایک مومن کا یہی شعار ہے کہ وہ کسی بھی حالت میں نہ تو مایوس ہوتا ہے نہ شکوہ بہ لب ہمیشہ رضائے الٹی پر راضی اور صابر و شاکر رہتا ہے اور اس المناک سانحہ پر خاندان مسیح موعود کے ہر ایک فرد اور جماعت احمدیہ کے ہر ایک رکن نے صبر و شکیبائی کا مال مظاہرہ کیا اور رضينا بالله رباً کا عملی کردار ادا کیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اسوہ حسنہ ہر لمحہ ان کے سامنے رہا کہ حضور کا لخت جگر وفات پا گیا۔آنکھیں اشکبار ہوگئیں صحابہ نے عرض کیا حضورہ روتے ہیں ؟ فرمایا الْعَيْنُ تَدْمَعُ وَالْقَلْبُ يحزن وَلا نَقُول إِلا مَا يَرضى ربنا یعنی بے شک آنکھ اشکبار ہے اور دل طول و حزیں ہے مگر اس حال میں بھی ہم وہی کہتے ہیں کہ جس سے ہمارا رب راضی ہو۔سوغم تو ایک طبیعی تقاضا ہے جو اس قسم کے مواقع پر ہر انسان محسوس کرتا ہے اس سے کسی طور مضر نہیں ، لیکن خدا تعالیٰ کی مشیت کے خلاف کوئی ایک لفظ بھی منہ سے نکالنا اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کا موجب ہے نظر کہ یہ شیوہ نہیں اہلِ رضا کا۔۔پس اس طبعی تقاضا کے تحت دل مغموم ہوتے اور آنکھیں اشکبار کہ نا اور سید نا حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کی دختر نیک اختر - نور چشم حضرت سیده نصرت جہاں۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب - حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب اور حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ کی سب سے چھوٹی پیاری اور دلاری ہمیشرہ