دُختِ کرام

by Other Authors

Page 144 of 497

دُختِ کرام — Page 144

کہ ہر روز اس میں اپنا سفر نامہ قلمبند کروں۔ان دنوں بیرون ممالک کا سفر بہت اہمیت رکھتا تھا۔شاذ ہی کوئی سمندر یار سیر کی نیت سے سفر کے لیے تیار ہوتا۔امی کو ہمیشہ سے سیاحت کا بہت شوق تھا۔ہر چیز برگری نظر رکھتیں اور مجھے بھی بتاتی رہتیں۔اس وقت بھی بلندی سے سمندر کا نظارہ بہت بھلا لگ رہا تھا کبھی تو ہم اپنے نیچے ٹھاٹھیں مارتے ہوتے نیلے سمندر کو دیکھ کر لطف اندوز ہوتے اور کبھی ساتھ بیٹھے ہوئے لوگوں کو بے تحاشا کھاتے ہوئے دیکھ کر حیران ہوتے اب جہاز نیچے اترنا شروع ہوا اور ایمسٹرڈم کا شہر نظر آنے لگا پورے شہر میں تین چیزیں نظر آر ہی تھیں۔سبزہ۔پانی۔اور پانی کے اندر بنے ہوتے گھر - ایمیٹروم سمندری سطح سے کافی نیچے ہے اس لیے یہاں پانی شہر میں آیا ہوا ہے سارے شہر میں جھیلوں اور نہروں کا جال پھیلا ہوا ہے۔اگر پورٹ پر ہالینڈ کے مربی حافظ قدرت اللہ صاحب اور ربانی صاحب ر حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب مرحوم کے برادر نسبتی ) ایک ڈچ احمدی اور جیبی (مرزا مجیب احمد صاحب ) ہمیں لینے آتے ہوئے تھے ربانی صاحب کی کار میں ہم بیگ کی طرف روانہ ہوئے راستہ میں ہم نے ہالینڈ کی مشہور WiND MILLS جگہ جگہ دیکھیں۔انگلینڈ کے مقابلہ میں یہاں کی COUNTRYSIDE SULS۔COUNTRY SIDE کے نظاروں میں بہت فراخی کا احساس ہوتا تھا۔