دُختِ کرام — Page 7
ہوں کچھ بھی فائدہ پبلک کو نہیں پہنچا سکتیں اور ان کے لکھنے سے کوئی نتیجہ معتد بہ پیدا نہیں ہوتا۔سوانح نویسی سے اصل مطلب تو یہ ہے کہ تا اس زمانے کے لوگ یا آنے والی نسلیں ان لوگوں کے واقعات زندگی پر غور کر کے کچھ نمونہ ان کے اخلاق یا ہمت یا زہد و تقوی یا علم و معرفت یا تائید دین یا همدردی نوع انسان یا کسی اور قسم کی قابل تعریف ترقی کا اپنے لیے حاصل کریں۔اور کم سے کم یہ کہ قوم کے اولوالعزم لوگوں کے حالات معلوم کر کے اس شوکت اور شان کے قاتل ہو جا تیں جو اسلام کے عمائد میں ہمیشہ سے پائی جاتی رہی ہے۔تاکہ اس کو حمایت قوم میں ان مخالفین کے سامنے پیش کر سکیں اور یا یہ کہ ان لوگوں کے مرتبت یا صدق اور کذب کی نسبت کچھ رائے قائم کر سکیں اور ظاہر ہے کہ ایسے امور کے لیے کسی قدر مفصل واقعات کے جاننے کی ہر ایک کو ضرورت ہوتی ہے اور لیا اوقات ایسا ہوتا ہے کہ ایک شخص نامور انسان کے واقعات پڑھنے کے وقت نہایت شوق سے اس شخص کے سوانح کو پڑھنا شروع کرتا ہے اور دل میں جوش رکھتا ہے کہ اس کے کامل حالات پر اطلاع پاکر اس سے کچھ فائدہ اُٹھاتے تب اگر ایسا اتفاق ہو کہ سوانح نولیس نے نہایت اجمال پر کفایت کی ہو۔اور لائف کے نقشہ کو صفائی سے نہ دکھلایا ہو تو شخص نہایت