دُختِ کرام — Page 137
۱۲۵ درخواست پر ۳۰ اکتوبر کو احمدیہ ہال میں بہنوں سے علاقات فرمائی اور خطاب سے نوازا۔لجنہ اماء اللہ کراچی کی طرف سے محرقہ مبارکہ قمر صاحبہ نے سپاس نامہ پیش کیا۔حضرت بیگم صاحبہ نے فرمایا۔میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے اس لیے جمیلہ عرفانی صاحبہ میری تقریر پڑھ کر سنائیں گی۔خطاب۔۔۔و عزیزہ مجیدہ بیگم و آپا سلیمہ بیگم نے خواہش ظاہر کی تھی کہ میں اپنے سفر یورپ کے کچھ حالات لجنہ اماء اللہ کے اجتماع میں سناؤں۔شاید میں خود تو نہ سُنا سکوں کیونکہ مجھے عادت نہیں ہے البتہ کچھ لکھ کر بتا سکوں گی۔میرا یورپ جانا محض ایک اتفاق تھا۔میں آپ کو بتا دینا چاہتی ہوں کہ زندگی میں اگر مجھے کوئی مجنونانہ شوق رہا ہے تو وہ غیر ممالک کی سیاحت کا تھا۔حالات ہی ایسے پیدا ہوتے رہے کہ اس وقت تک یہ تمنا پوری نہ ہو سکی ، میرے میاں مرحوم نے دو برس پیشتر اپنا پاسپورٹ بھی بنوا لیا تھا۔اور میری یہ خواہش پوری کرنے کی ان کو بے حد تڑپ تھی ہمیشہ کہتے تھے بیگم میں نے تمہارا یہ قرض دینا ہے جو انشاء اللہ تعالیٰ ضرور ادا کروں گا۔انہوں نے اپنا وعدہ اپنے بعد بھی پورا کر دکھایا۔خیر یہ توضمناً بات یاد آگئی۔میرا یہ سفر اتفاق اس لیے بن گیا کہ اب یہ برسوں کی پالی ہوئی آرزو ہیکل مردہ ہو چکی تھی۔خواہش تو ایک طرف مجھے اس سفر سے ایک تنفر سا پیدا ہو چکا تھا