دُختِ کرام

by Other Authors

Page 138 of 497

دُختِ کرام — Page 138

مگر اکثر اوقات انسان کی آزر و تب پوری ہوتی ہے جب اس کی رغبت اور اہمیت فنا ہو چکی ہوتی ہے میرے ساتھ تو اکثر ایسا ہوا ہے۔ہر حال خدا جانے کسی طرح میری لڑکی عزیزہ طاہرہ صدیقہ نے تین دن کے اندر زور دے کر مجھے تیار کر دیا۔پھر خدا تعالیٰ نے جلد جلد ایسے سامان پیدا کر دیتے کہ خلاف اُمید ویزا و غیرہ بھی مل گیا۔اور میں ۲۵؍ جولائی کو بیاں سے لندن کے کے لیے روانہ ہو گئی۔میرے سفر یورپ کا سب سے زیادہ خوشگوار اور مبارک پہلو بیت زیورچ کے سنگ بنیاد کی تقریب میں شمولیت تھی۔میں تو اب سمجھتی ہوں کہ میرا ادھر جانا بھی اسی تقدیر کے ماتحت تھا۔میرے تو وہم وگمان میں بھی نہ تھا۔کہ بیٹھے بٹھائے یہ سعادت میرے حصہ میں آجائے گی۔ایک روز مکرمی مشتاق احمد صاحب باجوہ کا تار میرے نام آیا جس پر میری آمد پر خوش آمدید کہا تھا اور زیورچ جاکر بیت کا سنگ بنیاد اپنے ہاتھ سے رکھنے کی فرمائش کی تھی پہلے تو میں اپنی فطرتی جھجک کے باعث انکار کرنے لگی تھی۔مگر میرے دل نے ملامت کی۔آخر میں نے مان لیا۔میں نے یہی سوچا کہ یہ سب کچھ تصرف غیبی کے ماتحت ہو رہا ہے۔میرا بیاں بلا ارادہ اچانک آجاتا اور مکرم باجوہ صاحب کے دل میں اللی تحریک سے میرا خیال پیدا ہونا یہ سب تقدیری امور ہیں میں ۲۲ اگست کو زیور پہنچ گئی۔۲۵ تاریخ کو صبح دس بجے یہ تقریب عمل میں آتی تھی۔جو بفضل تعالیٰ بہت شاندار طریقہ سے انجام پذیر ہوئی متعدد پریس والے اور بہت سے مقامی غیرمسلم باشندے علاو و رتی