دُختِ کرام — Page 5
جب تک سامنے نہ آتے۔ہر گوشہ جب تک ظاہر نہ ہو۔سیرت و کردار کی تشکیل مکمل نہیں ہو پاتی زندگی کی تمام جزئیات اور ساری کیفیات کو جب یک مد نظر نہ رکھا جائے سوانح عمری کا حق ادا نہیں ہوتا۔ایک ایسا سیر حاصل تبصرہ اور معلومات افزا تذکرہ نظروں کے سامنے ہو جسے پڑھ کر اس شخصیت کا پورا عکس اور ہوتا چاہتا تصور قاری کے ذہن میں مستحضر ہو جاتے۔لاریب بعض وجود ایسے ہوتے ہیں کہ جین سے بے شمار انسانوں کو روحانی وابستگی ہوتی ہے اور ان کی زندگی کے حالات اور سیرت و کردار پرمشتمل واقعات پڑھنے والوں پر یقیناً اثر انداز ہوتے اور معین مخصوص دتر کرد اقعات ذہنوں پر گہرا اثر اور انمٹ نقش چھوڑ جاتے ہیں جس کا اثر ان کے اخلاق د عادات پر پڑتا ہے اور بسا اوقات پاکیزہ اور اعلیٰ اخلاق کے حامل بزرگان کی زندگی سے متعلق حسین و جمیل واقعات انسان کی کایا پلٹ کر رکھ دیتے ہیں اور ارشاد خداوندی اس امر کی تصدیق کرتا ہے کہ وَلَكُمْ فِي رَسُولِ اللهِ أسْوَةٌ حَسَنَةٌ۔اے لوگو ! رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تمہارے لیے بہترین نمونہ ہیں ہیں تم ہر معاملہ میں حضور پاک کا اسوہ حسنہ اپنا ؤ۔اور حضور کی زندگی کے ہر پہلو کو مد نظر رکھ کر اسی طرح اپنی زندگی گزارنے کی سعی کرد جو رسول پاک کی زندگی کی عکاس ہو تو تم دین و دنیا کی برکات حاصل کرو گے۔اور زندگی کے ہر مرحلہ میں خدا تعالیٰ تمہارے ساتھ ہوگا اور غیر معمولی کامیابی و کامرانی تمہارے قدم چومے گی۔اور وہ بزرگان کرام جو ساری عمر قال الله۔