دُختِ کرام — Page 49
۳۷ بعض اقارب جو اپنے ہاں رشتہ کرانے کے خواہشمند ہیں رشته زیر تجویز میں مزاحم ہوں گے اس لیے ابتدا ہی میں علیگڑھ لکھ دیا تھا کہ اگر آپ کسی مرحلہ پر ہمارے ان اقارب کے زیر اثر آئے تو سلسلہ جنبائی فوراً منقطع کر دیا جائے گا۔ہمارے رشتے طے ہو گئے۔سب سامان بنا لیا گیا اور سالانہ یا سا ١٩١ میں قادیان سے حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب صاحبزادی امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ اور حضرت اماں جان مالی کومله بارات میں شامل ہونے کے لیے پہنچے۔ہم نے علی گڑھ جانا تھا حضرت صاحبزادہ مرزا محمود احمد صاحب نے خطبہ نکاح پڑھنا تھا، لیکن علیگڑھ سے اطلاع آتی کہ کچھ مہلت دی جائے لیکن والد صاحب نے بذریعہ تارا نہیں اطلاع دے دی کہ رشتے منسوخ سمجھے جائیں کیونکہ والد صاحب کو یقینی وجوہ سے معلوم ہوا کہ وہ ان ہی اقارب کے زیر اثر آگتے ہیں۔ہم سب طالب علم تھے تعطیلات ختم ہونے پر قادیان چلے آئے اور حضرت والد صاحب نے مالیر کوٹلہ سے حضرت خلیفہ المسیح اول کی خدمت میں لکھا کہ میں پہلے بھی اس بات کا خواہشمند تھا کہ میرے لڑکوں کے رشتے احمدیوں کے ہاں ہوں۔تاکہ ان میں دینی جذبہ قائم رہے اور وہ غیر احمدیوں کی طرف مائل ہوتے ہیں جو مجھے ناپسند ہے اب جو