دُختِ کرام

by Other Authors

Page 470 of 497

دُختِ کرام — Page 470

۴۵۸ دار السلام میں رہا اس دور کی حسین اور ناقابل فراموش یادیں میرے دل دماغ پر اس طرح حاوی ہیں کہ جب بھی قادیان جانا ہوا تو کو بھی دارالسلام کے باغ اور کونے کونے میں گھوم پھر کر دیوانہ وار روتا بھی ہوں اور حیران بھی ہوتا ہوں کہ اس سرزمین میں کیا جادو ہے کہ میرے وطن مالوف اور میری جنم بھومی کی طرح اس جگہ کی یادمیں رلاتے بغیر نہیں چھوڑتیں۔یقیناً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت برحق ہے کہ ایسے روحانی رشتے قائم فرماگئے جو خون کے رشتوں کے برابر ہیں بلکہ اس سے سوا اسی کو بھی دارالسلام میں خاکسار ذاتی طور پر حضرت مصلح موعود سے متعارف ہوا جو طلب علمی کے بعد بھی اب تک میری زندگی کا ملجاء ومادی بنا۔حضرت اماں جان حضرت مرزا بشیر احمد صاحب - حضرت نواب مبارکہ بیگم صاحبہ مجھے ایسے جانتے پہچانتے تھے جیسے گھر کے کسی فرد کو جانا اور پہچانا جاتا ہے۔میرے اس تعارف اعزاز اور خوش قسمتی کا واحد سبب حضرت بیگم صاحبہ کا وہ حسن سلوک ہے جو اس عاجز کے ساتھ روا رکھا گیا اور میں ایک معمان طالب علم کے طور پر اتنی مدت ان کے زیر پرورش رہا۔کوٹھی دار السلام کا ماحول صاف ستھرا امیرانہ ہی نہیں بلکہ نوریانہ تھا لیکن اس ظاہری شان و شوکت کیساتھ ساتھ سارا ماحول نیکی پاکیزگی اور محبت و اخوت کا گہوارہ تھا۔اور اس پاکیزہ ماحول میں میں نے شعور کی آنکھ کھولی۔حضرت نواب محمد عبد اللہ خان صاحب نماز باجماعت کی پابندی فرماتے اور میں ساتھ ہو لیتا اور بہیت نور میں باجماعت نمازیں ادا کرتے تھے بچپن کی وجہ سے