دُختِ کرام — Page 454
۴۴۲ زبیر کی بیماری کی عرض کی تو چند ثانیے کے توقف کے بعد اپنے رب کریم پر توکل کرتے ہوئے بڑے وثوق کے ساتھ اور بڑی پر شوکت آواز میں فرمایا کہ تم بے فکر ہو جاؤ اللہ تعالیٰ محمد زبیر کو ضرور شفا دے گا۔میجی ہوئی پلانا شروع کر دیں ے یہاں آؤ وہ نور جاودانی دیکھتے جاؤ نمود حسن یار لامکانی دیکھتے جاؤ در رحمت سے اٹھتی ہے گھٹا جب ابر رحمت کی ٹپک پڑتا ہے شعلوں سے بھی پانی دیکھتے جاؤ محمد زبیر نو عمری ہی سے عبادت میں بہت شغف رکھنے والا اور دھا گو تھا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے پیاروں کی دعاؤں کو قبول فرماتے ہوئے زہیر کی حالت میں بہتری کے آثار پیدا فرما دیتے اب اسے ہوش آچکا تھا بخار بھی کم ہوتے ہوتے ٹوٹ گیا تھا۔میں اس کے پاس میو ہسپتال کے کمرے میں گیا۔تو حضرت سیدہ نواب مبار که بیگم صاحبہ کے یہ اشعار پڑھ رہا تھا اور آنسو بہا رہا تھا ہے مایوس کبھی تیرے سوالی نہیں پھرتے بندے تری درگاہ سے خالی نہیں پھرتے ہر آن ترا حکم تو چل سکتا ہے مولی وقت آبھی گیا ہو تو وہ مل سکتا ہے مولی تقدیر یہی ہے تو یہ تقدیر بدل دے تو مالک تحریر ہے تحریر بدل دے اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم کا ایسا کرشمہ فلک نے دیکھا جیسا کہ گذشتہ