دُختِ کرام

by Other Authors

Page 430 of 497

دُختِ کرام — Page 430

۴۱۸ شفقتوں کا گہوارہ از محرمه عذرا بیگم صاحب اہلیہ مکرم شیخ نایت اللہ صاحب ٹنڈو جام حیدر آباد سندھ حضرت سیدہ بیگم صاحبہ کی شفقتوں اور نوازشوں کا سلسلہ اس قدر وسیع اور اتنا ہمہ گیر ہے کہ سمجھ میں نہیں آرہا کہ کہاں سے شروع کروں۔میری عمر اس وقت کم و بیش ۷۳ سال ہے قریباً ۶ ۷ سال کی عمر میں میں حضرت بیگم صاحبہ کی آغوش شفقت میں آئی اور بچپن سے لے کر جوانی تک سولہ سترہ سال کا عرصہ آپ کی مادرانہ شفقتوں کا مورد رہی۔حضرت سیدہ مرحومہ نے خود میرا رشته تجویز فرمایا۔رخصتی اپنے گھر سے کی اور شادی کا سارا سامان اپنے پاس سے دیا بلکہ رخصتی کے لیے اپنی کو بھی دارالسلام کا ایک حصہ مخصوص فرمایا۔میری والدہ محترمہ غفور النسا صاحبہ نے میاں عباس احمد خان صاح کو حضرت اماں جان کے ارشاد پر دودھ پلایا تھا۔یہ ہ ، ہ کی بات ہے اس وقت سے اس عالی خاندان سے مراسم قائم میں اور میاں عباس احمد خان صاحب کی رضاعی بین ہونے کے ناطے میں نے حضرت سیدہ بیگم صاحبہ کی عنایتوں اور نوازشوں کا ایک لیے عرصہ تک لطف اُٹھایا۔اور صرف میں ہی نہیں بلکہ میرے سارے بہن بھائیوں اور والدین سے 1 خاندان کا گہرا تعلق رہا اور آخر تک اس تعلق کو بنا ہے۔