دُختِ کرام — Page 390
۳۷۸ نا قابل فراموش لمحات از محرمه ثمینه سیمین صاحبه داراسین غربی دیوه ) حضرت بیگم صاحبہ سے میری طلاقات کا عرصہ تین سالوں سے زائد نہیں لیکن ان کی معیت میں گذرے ہوتے یہ لمحات اپنے اندر طمانیت اور خوشی کا ایسا بھر پور تاثر لئے ہوتے ہیں کہ یہ میری زندگی کے ناقابل فراموش لمحے بن گئے ہیں۔طبیعت اس قدر سادہ اور رحم دل تھی کہ آپ کے ہاں کام کرنے والے سب خادم اور خادمائیں ان سے اولاد کی طرح پیار کرتے تھے۔مجھے یاد ہے جب پہلی بار میں اپنی اتنی کے ساتھ ملاقات کے لیے گئی تو آپ بیمار تھیں میرے سر پر پیار کیا اور پھر گھر والوں کے متعلق پوچھا کتنے بہن بھائی ہیں کیا کرتے ہیں۔میری تعلیم کے متعلق پوچھا۔پھر مجھ سے پوچھنے لگیں کہ کون کون سے کھانے پکا لیتی ہو ، لڑکیوں کو اس کام میں بہت دلچسپی لینی چاہیئے۔نئے نئے کھانے پکانے سیکھنے چاہتیں اس کے بعد کبھی کبھی فون پر بھی آپ سے بات کر لیتی تھی۔میرے اور آپ کے درمیان محبت کا ہر رشتہ اتنا بڑھا کہ ایک دفعہ مجھے لاہور جانا پڑا بعد میں آپ نے فون کر کے پوچھا کہ اتنے دن ہو گئے ثمینہ نے لاہور سے کب واپس آتا ہے جب بھی فون کرتیں گھر میں سب کی خیریت دریافت کرتیں۔ایک دفعہ میں نے اپنی باجی