دُختِ کرام

by Other Authors

Page 297 of 497

دُختِ کرام — Page 297

۲۸۵ میں روز بعد دوبارہ آئی تو میری لڑکی اعتدالحبیب نے مجھے بتایا کہ اتنی اس دفعہ بڑی امی نے اتنا آپ کو یاد کیا ہے کہ ان کے اس طرح سے اور اتنا زیادہ یاد کرنے سے مجھے آپ کے متعلق دہم آنے لگ گئے۔ایک دُکھ میرے دل میں ایک تکلیف دہ یاد کی طرح بیٹھ گیا ہے۔امی کی وفات سے پندرہ میں روز قبل میں کئی روز سے اتنی کے پاس ہی تھی۔اس دوران میرے میاں کی طبیعت خراب ہوگئی کیونکہ ان کے دل کا اپریشن ہو چکا ہوا ہے اس لیے قدرتاً فکر پیدا ہو جاتا تھا۔مجھے کئی روز سے کہہ رہے تھے واپس چلو میں محسوس کر رہا ہوں میری طبیعت بہت خراب ہو رہی ہے اور میں نے اتی کو دو تین دن سے سنانا شروع کر دیا کہ میں پرسوں جا رہی ہوں۔انہیں ڈاکٹر کو دکھا کر انشاء اللہ جلدی آجاؤں گی۔رات کو میں امتی کو مل کر گئی میری عادت تھی روانہ ہوتے وقت میں ضرور ٹھہر کر امی کو دوبارہ مل کر جاتی تھی جب اتی سے رخصت ہونے لگی تو اتی شاید بھول چکی تھیں کہ آج ہم جا رہے ہیں حیران ہو کر پوچھنے لگیں تم جا رہی ہو ؟ میں نے ابھی خانساماں کو بلا کر منیر کے لیے کھانے کا کہا ہے۔میں مجبور تھی اس لیے آتو گئی مگر تمام راستہ امی کی وجہ سے میرا دل خراب ہوتا رہا اور اب امی کی وفات کے بعد تو یہ الفاظ میر لیے بے حد تکلیف دہ ہو گئے ہیں پتہ نہیں امی نے کیا اہتمام کیا تھا۔جہلم پہنچتے ہی میرے میاں کی طبیعت بے حد خراب ہو گئی۔یہاں تک کہ پنڈی تک بھی نہ جا سکے عزیزم ڈاکٹر نوری نے جہلم میں ہی آکر دیکھا اور علاج تجویز کیا۔ان کے ٹھیک ہوتے ہی میں پھر ربوہ میلی گئی مگر میری امی