دُختِ کرام

by Other Authors

Page 296 of 497

دُختِ کرام — Page 296

نهم من فلش خراب تو نہیں میٹھا پانی ٹھیک آرہا ہے یا نہیں۔گھر میں برتنوں کی چادراری کی۔تولیوں کی۔غرضیکہ کسی چیز کی کمی تو نہیں یہ سب ذمہ داریاں ان کی تھیں۔جب تک میری بہن بیگم مرزا داؤد احمد صاحب کراچی رہیں امی ان کے گھر میں تھیں۔ان کے ربوہ آنے پر جب امی کے لیے گھر کی ضرورت پڑی تو مصطفے نے فوراً انتہائی محنت اور لگن کے ساتھ اتھی کی کوٹھی کا نقشہ بنوا کر کوٹی شروع کروادی۔حالانکہ رہائش لاہور میں تھی مگر ہفتہ وار بعض اوقات ہفتہ میں دو بار آکر کو بھٹی کو چیک کرتے اور اس کا تمام سامان مہیا کرتے اور پھر تمام ضروریات کے ساتھ اس کو مکمل کر کے جب وہ امتی کو اپنے گھر میں لاتے تو اس وقت ان کی خوشی دیکھنے کے قابل تھی حق تو یہ ہے کہ میرے اس چھوٹے بھائی نے ماں کی طرح امی کی خدمت نہیں کی بلکہ جس طرح ماں باپ بچے کی دیکھ بھال کرتے ہیں اسی طرح امی کا خیال رکھا۔امی کہا کرتی تھیں کہ مصطفیٰ کے سامنے تو میں کسی چیز کا نام لیتے بھی ڈرتی ہوں فوراً سے آتا ہے۔غرضیکہ مصطفے نے امی کی بہت دعائیں لی ہیں اللہ تعالیٰ ہمیشہ اس پر اپنا فضل فرماتے۔ہم بہن بھائی جو باہر رہتے تھے۔باری باری اتنی کے پاس جاتے رہتے تھے اور امی بہت خوش ہوتی تھیں ناشتہ کھانا سب اپنے کرہ میں منگوا لیتی تھیں اور ہر چیز پر نظر رکھتی تھیں اور سب کو کھلا کر بہت خوش ہوتی تھیں۔جب کوئی بچہ جانے لگتا تو بہت اداسی محسوس کرتیں۔میں امی کی وفات سے قریباً دو ماہ قبل اندازاً ایک ماہ اتنی کے پاس رہ کر گئی جب پندرہ