دُختِ کرام — Page 295
محبت کو نبھایا۔روزانہ خواہ گرمی ہو یا سردی آندھی ہو یا بارش وہ صبح آٹھ نو بجے آکر شام تک امی کے پاس رہتی تھیں تمام گھر پر اور نوکروں پر بھی نظر رکھتی تھیں اس کے علاوہ امی کا خیال ان کی کوئی پسندیدہ چیز اپنے ہاتھ سے بنائی اور اگر کوئی گڑبڑ والی بات ہوتی تھی تو فوراً ان کے بچوں کو تبا دیتی تھیں تاکہ اس کا تدارک ہو سکے اور نوکر اس ڈر سے محتاط رہتے تھے ان کی وجہ سے ہم سب کو بہت تسلی رہتی تھی۔اللہ تعالیٰ ان کو جزا دے۔اس کے علاوہ میری بین ذکیہ - قدسیہ بیگم اور میری بچی امتہ الحسیب بیگم مرزا انس احمد صاحب) کو چار بجے سے ہی فون کر دیتی تھیں کہ تم لوگ آتے نہیں غرضیکہ ربوہ میں جو بھی بہن بھائی تھے وہ روزانہ اتی کے پاس آجاتے تھے۔ابا جان کی وفات کے وقت چونکہ مصطفے اور فوزیہ سب سے چھوٹے تھے اور ابا جان کی کمی کی وجہ سے امی نے ان کو بہت پیار دیا۔میرے بھائی مصطفے کے سپرد تو سندھ کی تمام جائیداد کا انتظام بھی تھا اس کے علاوہ بھی وہ امی کی تمام ضروریات کا خیال رکھتے تھے۔یہاں تک کہ نوکروں تک کا انتظام مصطفی کرتے تھے اور اس لیے کہ امی کو تکلیف نہ ہو علاوہ اس تنخواہ کے جو امی ملازموں کو دیتی تھیں انہوں نے نوکروں کا ماہانہ خود بھی مقرر کیا ہوا تھا۔جس کا امی کو علم نہیں تھا۔یہ صرف اس لیے کہ ملازم زیادہ خوشی اور دل سے امی کی خدمت کریں۔چونکہ رہائش لاہور میں تھی ہر ماہ ایک دو چکر ضرور لگاتے تھے۔اور گھر کی ایک ایک چیز پر نظر ہوتی تھی۔ایر کنڈیشن ٹھیک ہے