دُختِ کرام — Page 271
۲۵۹ میرے پیارے عباس علمکم اللہ تعالی اسلام علیکم ! ابھی ڈاک میں تمہارا خط ملا۔میں تو ہمیشہ تمہارے لیے خصوصیت سے دعا کرتی ہوں اور پانچ چھ ماہ سے تو از خود کوئی غیبی تحریک ہے کہ خود نخود دعا تمہارے اور بچوں کے لیے نکلتی ہے۔۔۔۔۔مجھے تو ہر وقت تمہاری صحت کا فکر رہتا ہے اللہ تعالیٰ تمہارا حافظ و ناصر ہو۔جان و مال اولاد ہر تحاظ سے۔تمہارا رویہ اپنے ابا کی وفات کے بعد جو میرے ساتھ رہا اور ہے اس سے میرے دل میں خود بخود تمہاری قدر بڑھتی چلی جاتی ہے۔بفضلہ تعالیٰ جیسے روپیہ سے میں کسی کی محتاج رسے نہیں۔اللہ تعالیٰ نے مجھے بہت دیا ہے۔الحمد للہ۔مگر یہ ہی تو سر پرستی کے احساس کی کمی کو پورا نہیں کر سکتا۔عورت خواہ کتنی بھی بوڑھی ہو جائے۔قدرتاً ایک سرپرست نگران اپنے اُوپر چاہتی ہے۔اگر شوہر مشیت ایزدی سے نہ ساتھ دے کے۔تو عورت کی نظر لازماً اپنے بیٹوں کی طرف اٹھتی ہے اپنے۔اب اگر میں اپنی تنہائی کی حالت میں۔بیماری یا کسی تکلیف کا سوچوں تو معاً مجھے تمہارا خیال آتا ہے۔دل محسوس کرتا ہے کہ اس بیٹے کا سہارا اس سے لے سکتی ہوں۔اسی لیے تمہارے سفرہو کر جانے سے مجھے گھیرا ہٹ سی ہو جاتی ہے۔یہ سب میں نے اس لیے لکھا ہے کہ جب یہ کیفیت ایک ماں کے دل کی ہو ا