دُختِ کرام — Page 238
۲۲۶ دونوں ماں بیٹی کی خیریت کی خوش خبری بذریعہ تارا گئی کیونکہ بیگم و مرزا مبارک احمد صاحب دونوں لاہور سے باہر تھے ، باجی جان یہ خوشخبری سنتے ہی مجھے خوشی خوشی میں اور دل کی گہرائیوں سے یہ بات کی بشری تمہارا بھیجوایا ہوا پھل اور میٹھی چیز کس قدر نیک شگون اور بھاگوان ثابت ہوا مجھے خدا نے خوشخبری سے نوازا ہے ** اب غور کرنے کا مقام ہے ایسے اتفاقات ہو جاتے ہیں گھر باجی جان نے میری کس قدر دلداری کی اور در پردہ میری راہنمائی اس بات کی طرف کی کہ اگر خدا سے ڈھیٹ گداگر بن کر کچھ مانگا جاتے تو وہ ذات باری ایسے گداگر کا کشکول خالی نہیں لوٹا تا اور میرے ایمان ویقین کو اس طور پر پختہ کیا۔پارٹیشن پر جب قادیان سے ہم نکلے ہیں تو ہمارا اس طرح غیر متوقع طور پر نکلنا بالکل بے سروسامانی کی حالت میں تھا۔ایک وہی جوڑا جو میں نے پہنا ہوا تھا۔یا پھر برقعہ اور اس کے سوا قطعاً کچھ نہ تھا کسی نہ کسی طرح تھا کسی لاہور جو دھامل بلڈنگ پہنچے۔گرمی کے دن غسل کرنا اور پھر کپڑے بدلنے کا سوال عجیب تکلیف دہ تھا۔باجی جان نے جب مجھے سخت گھبراہٹ میں دیکھا تو مجھے مشورہ دیا۔تھالو۔اور پہنے ہوئے کپڑے دھو کر باہر لڑکیوں کو دو وہ باہر نکھے کی ہوا میں سکھا کر تمہارے غسل تک تمہیں پکڑا دیں گی۔سو اسی طرح ہوتا رہا، لیکن سوچنے والی بات یہ ہے کہ اس سخت تکلیف دہ حالات و تفکرات میں آپ نے کس قدر گہری اور ہمدردانہ نظر مجھ پر رکھی اور پھر اس مسئلے کو اس طور حل کیا۔گو میں بظا ہر کچھ