دُختِ کرام — Page 220
۲۰۸ نتیجہ میں تھا۔پس مایوسی کی پھر بھی کوئی وجہ نہیں اور وہ دُعا کو پیدا ہوئے جن کا زمانہ کے لحاظ سے تیرہ سو سال کا فرق تھا، لیکن حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کی دعاؤں ہی کی برکتوں نے ایسے دعا گو پیدا کر دیتے جنہوں نے پرانی دُعاوں کی یادیں زندہ کر دیں۔حضرت مسیح موعود علیہ اسلام کے زمانہ میں کپور تھلہ کے دو رفقاء حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور جب جُدا ہونے لگے تو ان میں سے ایک نے منشی اروڈے خان صاحب نے ) اپنے خاص پیار کے اندازہ میں بے تکلفی کے انداز میں یہ درخواست کی کہ بہت گرمی ہوگئی ہے ہم نے واپس جاتا ہے اور موسم بڑا سخت ہے حضور دعا کریں کہ ایسی بارش برسے کہ اوپر سے بھی بارش ہو اور نیچے سے بھی بارش۔بارش ہی بارش ہو جاتے۔(اب یہ محاورہ ہے اوپر سے بھی بارش نیچے سے بھی بارش منشی ظفر احمد صاحب بڑے ذہین اور فطین انسان تھے انہوں نے مسکرا کر عرض کی حضور میرے لیے اُوپر کی بارش کی دعا کریں نیچے کی بارش کی نہ کریں وہ بتاتے ہیں کہ جب ہم روانہ ہوتے اور قادیان سے بالہ تک کا سفر ابھی آدھا نے نہیں کیا تھا۔کہ اس قدر کالی گھٹا اُٹھی ہے اور اس زور سے بری ہے کہ ہم حیران