دُختِ کرام — Page 215
دیتے ہیں اور محرکات بھی ہیں جو اپنا اپنا پارٹ پہلے کرتے ہیں اپنا حصہ ادا کر کے وہ جدا ہو جاتے ہیں شخصیتوں پر غور کریں تو ہر شخصیت میں ہر خوبی کو اپنے اندر سمانے کی خاصیت بہت کم لوگوں میں پائی جاتی ہے بعض لوگ ایک پہلو کے لحاظ سے حسن اختیار کر جاتے ہیں بعض دوسرے پہلو کے لحاظ سے حسن اختیار کر جاتے ہیں بعضوں میں ایک برائی شامل رہتی ہے جن کے ساتھ بعضوں میں دوسری برائی باقی رہتی ہے اسی لیے ایک کہنے والے نے کہا ہے کہ ہے گلشن پرست ہوں مجھے گل ہی نہیں عزیزہ کانٹوں سے بھی نباہ کتنے جا رہا ہوں میں جو خوبیوں سے محبت کرنے والے ہیں وہ جانتے ہیں کہ بعض خوبیوں کے ساتھ بعض برائیاں بھی اٹھی آئیں گی۔گلدستے سے پیار ہے تو کانٹوں سے بھی نباہ کرنا ہی پڑے گا تو ایسے وجود جو سراسر فیض ہوں اور ساری خوبیوں کے شبع بن جائیں سارے انوار کا مبسطہ ہو جائیں۔سارے حسن کا گلدستہ بن جائیں ایسے وجود استثنائی شان رکھنے والے وجود ہوتے ہیں۔عام طور پر ہمیں دنیا میں ملی جلی کیفیات کے لوگ نظر آتے ہیں ان میں کمزور بھی ہیں اور