دُختِ کرام

by Other Authors

Page 206 of 497

دُختِ کرام — Page 206

۱۹۴ تھیں۔جہاں تک حضرت پھوپھا جان کا تعلق ہے ان کے اندر خدا تعالیٰ نے بڑی خوبیاں رکھی تھیں خصوصیت کے ساتھ ان کی مہمان نوازی ضرب اش تھی۔پھر عبادت سے ان کا تعلق پنج وقتہ نماز اور باجماعت نماز کا شوق و ذوق ایسا تھا کہ بہت کم لوگوں میں ایسا دیکھنے میں آتا ہے اس لیے آپ بھی کرام لوگوں کی اولاد تھے اگرچہ الہاما یہ ذکر موجود نہیں لیکن ان کے اندر بھی بڑی خوبیاں تھیں ان دونوں کی اولاد کے لیے خاص طور پر دکھا کرنی چاہیئے کہ خصوصی خوبیاں جو حضرت پھوپھا جان کی تھیں یا حضرت پھو بھی جان کی تھیں وہ باہم مل کر ان کی اولاد میں اور بھی بڑھ جائیں نہ یہ کہ ان کے اندر کمی محسوس ہو اسی رنگ میں قومیں ترقی کیا کرتی ہیں والدین کی اچھی چیزیں اگر وہ اپنا نے لگ جائیں اور کمزوریوں سے صرف نظر کریں تو اس طرح قو میں ہر لحاظ سے آگے بڑھتی چلی جاتی ہیں اللہ تعالیٰ جماعت کو اس رنگ میں ہمیشہ اپنے آباؤ اجداد کی خوبیوں کو زندہ رکھنے بلکہ انہیں باہم جمع کرنے اور بڑھانے کی توفیق عطا فرماتا رہے۔حضرت پھوپھی جان کے ساتھ میرا ایک اور تعلق یہ بھی تھا کہ میری والدہ کو ان سے بہت پیار تھا۔بچپن سے آنکھ کھلتے ہی جب سے ہوش آتی ہے ہم نے اپنی والدہ کو پھوپھی جان کے لیے غیر معمولی محبت کے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے پایا اور پھوپھی جان کو بھی جواباً آپ سے سے بہت تعلق تھا۔اس لیے حضرت پھو بھی جان میرے لیے تو ایک طرح والدہ ہی تھیں جو فوت ہو گئیں۔مگر ایسے واقعات دنیا میں ہوتے رہتے میں صاحب حوصلہ لوگوں کو انہیں حوصلے کے ساتھ برداشت کرنا چاہیتے اور