دُختِ کرام — Page 179
144 مکرم محترم سردار مصباح الدین صاحب سابق مبلغ انگلستان کراچی سے تحریر فرماتے ہیں :۔کراچی و رسمی نشسته بسم اللہ الرحمن الرحیم محبتی عزیزی میاں عباس احمد خان سلم اللہ تعالیٰ اسلام علیکم و رحمة الله و بركاته با پیارے جس قضا کے کسی وقت آورد ہونے کا دلوں کو دھٹر کا نگا چلا آرہا تھا وہ قضائے الہی تھی۔نڈھنے والی تھی نہ ٹلی اور وارد ہو گئی انا للہ وانا الیہ راجعون عزیزم ! جس دل توڑ صدمہ اور الم جان پر آوارد ہونے پر آپ سے مخاطب ہوں پیارے۔اس صدمہ اس غم والم کا اثر آپ کی جان حزیں تک ہی نہیں۔اک جہان آپ کا شریک حال ہے۔فرشتے شریک حال ہیں۔عزیزم میں بتلاؤں کہ شراکت کے لیے مدارج ہوتے ہیں۔اسی نسبت سے رنج در است میں شراکت ہوتی ہے۔ایک شریک حال الیسا بھی ہوتا ہے۔ہو کہ خون کے رشتہ کے دائرہ سے باہر کا ہوتا ہے، لیکن رنج و غم رسیدہ جانتے ہیں کہ وہ بھی صدمہ اور غم والم میں یکساں شریک حال ہے۔پیارے خود ہی جانتے ہو کہ آپ کے گھرانے سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے نسبت غلامی اور روحانی کی بنا۔پر شراکت رنج و راحت ہے، لیکن ان لاکھوں میں بعض نفوس کی خوش نصیبی میں یہ سعادت بھی آئی کہ آپ کے گھرانے سے ذاتی تعلق بھی حاصل رہا۔اور