دعائیہ سیٹ

by Other Authors

Page 264 of 312

دعائیہ سیٹ — Page 264

اپنا مقصد بھی پیش کر دیں کہ الہی یہ بات بھی ہو جائے تو دعا قبول کرانے کا ایک یہ بھی طریق ہے اس طرح کرنے سے تیزی اور چستی پیدا ہو جاتی ہے اس لئے دعا نہایت عمدگی اور خوبی سے کی جاسکتی ہے اور دوسرے اسے خدا تعالیٰ خوش ہوتا ہے اور جب اس کے خوش ہونے کی حالت میں دعا پیش کی جائے گی تو ضرور قبول ہو جائے گی۔بارہواں طریق دعا ایک طریق یہ ہے کہ ایسی جگہ دعا مانگی جائے جو بابرکت ہو چونکہ جگہ کا بھی قبولیت دعا سے خاص تعلق ہوتا ہے۔یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ دنیا کی کسی چیز کا کوئی اثر اور کوئی حرکت ایسی نہیں ہوتی جو ضائع ہو جاتی ہو بلکہ ہر ایک چیز کی خفیف سے خفیف حرکت بھی قائم اور محفوظ رہتی ہے پس جب کسی اچھی چیز سے انسان کا تعلق ہوتا ہے تو اس انسان کا خاص اثر اس پر ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ آنحضرت صلی اینم نے مکہ مدینہ اور مسجد اقصیٰ میں نماز پڑھنے کا کسی اور جگہ پڑھنے سے بہت زیادہ درجہ بتایا ہے کیا وہاں کے پتھر اور گارا کوئی خاص قسم کے ہیں نہیں بلکہ جگہیں برکت والی ہیں اور جو ان میں نماز پڑھتا ہے اس پر اچھا اثر ہوتا ہے یہ بات بھی یاد رکھنے کے قابل ہے کہ انسان سے برکت چلی جاتی ہے۔قومیں بے برکت ہو جاتی ہیں۔کیونکہ یہ اپنی نادانی اور بیوقوفی سے اس دُرِ بے بہا کو کھو دیتی ہیں مگر بے جان اشیاء میں جو خدا تعالیٰ کی طرف سے برکت ڈالی جاتی ہے وہ کبھی نہیں جاسکتی اور ہمیشہ کے لئے رہتی ہے (سوائے نہایت خاص وجوہ کے یا خطر ناک بداعمالی کے) اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: 264