دعائیہ سیٹ — Page 263
اپنے خاص مقصد کو خدا تعالیٰ کے حضور پیش کر دے۔اس کے لئے ایک اور بہتر طریق یہ بھی ہے کہ انسان پہلے ایسی دعائیں مانگے۔جنہیں خدا تعالیٰ ضرور قبول کر لیتا ہے۔دفاتر میں جو ہوشیار کلرک ہوتے ہیں وہ اسی طرح کیا کرتے ہیں کہ اگر ان کا منشاء ہو کہ ہمارا افسر فلاں درخواست کو نامنظور کرے تو اس کے سامنے چار پانچ ایسی درخواستیں پیش کر دیتے ہیں جن کے متعلق انہیں پورا یقین ہو کہ نامنظور کی جائیں گی جب افسران کو نا منظور کر چکتا ہے اور خاص طور پر برافروختہ ہوتا ہے تو نا منظور کرانے والی کو پیش کر دیتے ہیں اس طرح وہ بھی نامنظور ہو جاتی ہے اور جب کسی درخواست کے متعلق ان کا یہ منشاء ہو کہ منظور ہو جائے تو پہلے ان امور کو پیش کرتے ہیں جن سے افسر خوش ہو جائے جب دیکھتے ہیں کہ خوش ہے تو اسے بھی پیش کر دیتے ہیں اور اس طرح وہ منظور ہو جاتی ہے۔اس طرح کام کرنے والے اور ہوشیار کلرک کیا کرتے ہیں۔اللہ تعالیٰ بھی نکتہ نواز ہے افسر کبھی تو جان بوجھ کر بھی کسی نامنظور کرنے والی درخواست کو منظور کر لیتا ہے کہ اس نے چونکہ ہمیں خوش کیا ہے اس لئے ہم بھی اس کو خوش کر دیں لیکن کبھی وہ نادانی سے ایسا کر بیٹھتا ہے مگر اللہ تعالیٰ کی شان ہی ایسی ہے کہ اس کو کبھی دھوکا نہیں لگ سکتا۔اس لئے وہ خوش ہی ہو کر بات قبول کرتا ہے۔پس کسی خاص معاملہ کے قبول کرانے کے لئے پہلے ایسی دعائیں کرنی چاہئیں جن کو خدا تعالیٰ نے قبول ہی کر لینا ہو مثلاً یہ کہ الہی دین اسلام کی بڑے زور شور سے اشاعت ہو۔تیرا جلال اور قدرت ظاہر ہو۔تیرے انبیاء کی عزت اور توقیر بڑھے۔خدا تعالیٰ کہے گا ایسا ہی ہو۔اس طرح دعائیں کرتے کرتے 263