دعائیہ سیٹ

by Other Authors

Page 232 of 312

دعائیہ سیٹ — Page 232

جومنگے سومرا ہے مرے سوئمنگن جا دعا میں ایک مقناطیسی اثر ہوتا ہے وہ فیض اور فضل کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔“ ( ملفوظات جلد پنجم ص 400) شرائط اور طریق دعا سیدنا حضرت خلیفتہ اسیح الثانی نے خطبہ جمعہ فرمودہ 21 جولائی 1916ء کو تشہد ،تعوذ اور سورۃ فاتحہ کے بعد یہ آیت تلاوت فرمائی۔وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِي فَإِنِّي قَرِيبٌ (سورۃ البقرہ آیت 187) اور فرمایا میں نے پچھلے جمعہ کے خطبہ میں بیان کیا تھا کہ اگر اللہ تعالیٰ نے توفیق دی تو میں اس امر کے متعلق کچھ بیان کرنا چاہتا ہوں کہ انسان کو دعا کس رنگ اور کس طریق میں کرنی چاہئے جس کے نتیجہ میں قبولیت کا وہ زیادہ امیدوار ہو اور وہ کیا شرائط ہونے چاہئیں جن کے مطابق کی ہوئی دعا خدا تعالیٰ کے حضور قبول ہو جائے۔یوں تو اللہ تعالیٰ بادشاہ ہے اور ہم اس کی رعایا کسی کی درخواست اور عرضی کو قبول کر نا بادشاہ کا اپنا کام ہے رعایا کا نہ یہ فرض ہے نہ کام ہے اور نہ حق ہے کہ بادشاہ یا حاکم ضرور ہی اس کی درخواست کو قبول کرے اگر وہ ہر بات کو قبول کرلے اور ضرور قبول کرے تو گویا وہ نوکر ہوا اور رعایا آقا۔وہ خادم ہوا اور رعایا مخدوم کیونکہ جو کسی کی ہر ایک بات ماننے کے لئے مجبور ہوتا ہے وہ آقا نہیں بلکہ خادم ہوتا ہے۔آقا خادم کی بات ماننے کے لئے 232