دعائیہ سیٹ — Page 223
اللہ تعالیٰ کا یہ عام قانون ہے کہ وہ نفوسِ انبیاء کی طرح دنیا میں بہت سے نفوسِ قدسیہ ایسے پیدا کرتا ہے جو فطرنا استقامت رکھتے ہیں۔یہ بات بھی یادرکھو کہ فطرتا انسان تین قسم کے ہوتے ہیں۔ایک فطرتاً ظالم لنفسہ دوسرے مقتصد یعنی کچھ کچھ نیکی سے بہرہ ور اور کچھ برائی سے آلودہ۔سوم برے کاموں سے متنفر اور سابق بالخیرات۔پس یہ آخری سلسلہ ایسا ہوتا ہے کہ اجتباء اور اصطفاء کے مراتب پر پہنچتے ہیں اور انبیاء علیہم السلام کا گروہ اسی پاک سلسلہ میں سے ہوتا ہے اور یہ سلسلہ ہمیشہ ہمیشہ جاری ہے۔دنیا ایسے لوگوں سے خالی نہیں۔بعض لوگ دعا کی درخواست کرتے ہیں کہ میرے لئے دعا کرو۔مگر افسوس ہے کہ دعا کرانے کے آداب سے واقف نہیں ہوتے۔عنایت علی نے دعا کی ضرورت سمجھی اور خواجہ علی کو بھیج دیا کہ آپ جا کر دعا کرائیں۔کچھ فائدہ نہیں ہوسکتا۔جبتک دعا کرانے والا اپنے اندر ایک صلاحیت اور اتباع کی عادت نہ ڈالے دعا کارگر نہیں ہوسکتی۔مریض اگر طبیب کی اطاعت ضروری نہیں سمجھتا، ممکن نہیں کہ فائدہ اُٹھا سکے۔جیسے مریض کو ضروری ہے کہ استقامت اور استقلال کے ساتھ طبیب کی رائے پر چلے تو فائدہ اُٹھا ئے گا، ایسے ہی دعا کرانے والے کے لئے آداب اور طریق ہیں۔تذکرۃ الاولیاء میں لکھا ہے کہ ایک بزرگ سے کسی نے دعا کی خواہش کی۔بزرگ نے فرمایا کہ دُودھ چاول لا ؤ۔وہ شخص حیران ہوا۔آخر وہ لایا۔بزرگ نے دعا کی اور اس شخص کا کام ہو گیا۔آخر اسے بتلایا گیا کہ یہ صرف تعلق پیدا کرنے کے لئے تھا۔ایسا ہی باوا فرید صاحب کے تذکرہ میں لکھا ہے کہ ایک شخص کا قبالہ گم ہوا اور وہ دعا کے لئے آپ کے 223