دعائیہ سیٹ — Page 222
دعا کے مضمون کو خوب ادا کرتی ہے اور وہ یہ ہے: جو منگے سومر ر ہے مرے سومنگن جا یعنی جو مانگنا چاہتا ہے اس کو ضروری ہے کہ ایک موت اپنے اوپر وارد کرے اور مانگنے کا حق اسی کا ہے جو اول اس موت کو حاصل کرلے۔حقیقت میں اسی موت کے نیچے دعا کی حقیقت ہے۔اصل بات یہ ہے کہ دعا کے اندر قبولیت کا اثر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب وہ انتہائی درجہ کے اضطرار تک پہنچ جاتی ہے۔جب انتہائی درجہ اضطرار کا پیدا ہو جاتا ہے اس وقت اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کی قبولیت کے آثار اور سامان بھی پیدا ہو جاتے ہیں پہلے سامان آسمان پر کئے جاتے ہیں اس کے بعد وہ زمین پر اثر دکھاتے ہیں۔یہ چھوٹی سی بات نہیں بلکہ ایک عظیم الشان حقیقت ہے بلکہ سچ تو یہ ہے کہ جس کو خدائی کا جلوہ دیکھنا ہوا اسے چاہئے کہ دعا کرے۔(احکام مورخہ 17۔اپریل 1904 ء۔بحوالہ ملفوظات جلد سوم صفحہ نمبر 616 تا618) قبولیت دعا کے ذرائع قبولیت دعا کے تین ہی ذریعے ہیں: اول - إن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللهَ فَاتَّبِعُونِي ( آل عمران : 32) دوم - يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا صَلُّوْ عَلَيْهِ وَسَلِّمُوا تَسْلِيمًا (الاحزاب:57) سوم۔موہبت الہی۔222