دعائیہ سیٹ — Page 38
یہ ہے کہ جب سے مذہب کی ابتداء ہوئی دنیا میں یہ پہلی عمارت ہے جو خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کی خاطر بنائی گئی۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: إِنَّ أَوَّلَ بَيْتٍ وُضِعَ لِلنَّاسِ لَلَّذِي بِبَكَّةَ مُبْرَكًا وَهُدًى لِلْعَالَمِينَ (سورة ال عمران : 97) ترجمہ: یقیناً پہلا گھر جو بنی نوع انسان ( کے فائدے) کے لئے بنایا گیا وہ ہے جو بکہ میں ہے (وہ) مبارک اور باعث ہدایت بنایا گیا تمام جہانوں کے لئے۔روایتوں میں آتا ہے کہ یہ مقدس عمارت تمام انبیاء کا قبلہ رہی ہے۔آنحضرت صلی اینم جب تک مکہ میں رہے اس کی طرف منہ کر کے نماز ادا کرتے رہے۔مدینہ میں ہجرت کر آنے کے بعد چند ماہ بیت المقدس ( واقع فلسطین ) کی طرف آپ نے منہ کیا اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے مستقل طور پر کعبہ کی طرف منہ کرنے کا آپ کو حکم دیا۔نماز میں کعبہ کی طرف منہ کرنے کے یہ معنے نہیں کہ مسلمان نعوذ باللہ اس عمارت کی پرستش کرتے ہیں۔مسلمان تو صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں ،صرف اسی کو اپنا کارساز اور خالق و مالک مانتے ہیں۔دراصل کعبہ کو قبلہ مقرر کرنے کی یہ حکمت ہے کہ نماز ایک مخصوص اجتماعی عبادت ہے جس میں یک جہتی اور اتحاد کو خاص طور پر ملحوظ رکھا گیا ہے تاکہ سب کی توجہ ایک طرف رہے۔اسی لئے کعبہ کو توحید الہی کے لئے پہلا اور اصلی مرکز ہونے کا شرف حاصل ہے۔38