دعائیہ سیٹ — Page 289
نہیں۔سال کے کسی حصہ میں ادا کیا جا سکتا ہے۔البتہ نویں ذی الحج سے تیرہ ذی الحج تک ان چار دنوں میں عمرہ کا احرام باندھنا درست نہیں۔کیونکہ یہ حج ادا کرنے کے دن ہیں۔عمرہ کا احرام کھولنے کا وہی طریق ہے جو حج کے احرام کھولنے کا ہے۔حضرت مسیح موعود فر ماتے ہیں: حج سے صرف اتناہی مطلب نہیں کہ ایک شخص گھر سے نکلے اور سمندر چیر کر چلا جاوے اور رسمی طور پر کچھ لفظ منہ سے بول کر ایک رسم ادا کر کے چلا آوے۔اصل بات یہ ہے کہ حج ایک اعلیٰ درجہ کی چیز ہے جو کمال سلوک کا آخری مرحلہ ہے۔سمجھنا چاہئے کہ انسان کا اپنے نفس سے انقطاع کا یہ حق ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ ہی کی محبت میں کھویا جاوے اور تعشق باللہ اور محبت الہی ایسی پیدا ہو جاوے کہ اس کے مقابلہ میں نہ اُسے کسی سفر کی تکلیف ہو اور نہ جان و مال کی پروا ہو نہ عزیز واقارب سے جدائی کا فکر ہو جیسے عاشق اور محب اپنے محبوب پر جان قربان کرنے کو تیار ہوتا ہے۔اسی طرح یہ بھی کرنے سے دریغ نہ کرے۔اس کا نمونہ حج میں رکھا ہے۔جیسے عاشق اپنے محبوب کے گرد طواف کرتا ہے اسی طرح حج میں بھی طواف رکھا ہے۔یہ ایک بار یک نکتہ ہے۔جیسا بیت اللہ ہے ایک اس سے بھی اوپر ہے۔جب تک اس کا طواف نہ کرو یہ طواف مفید نہیں اور ثواب نہیں۔اس کا طواف کرنے والوں کی بھی یہی حالت ہونی چاہئے جو یہاں دیکھتے ہو کہ ایک مختصر سا کپڑا رکھ لیتے ہیں۔اسی طرح اس کا طواف کرنے والوں کو چاہئے کہ دُنیا کے کپڑے اُتار کر فروتنی اور انکساری اختیار کرے اور عاشقانہ رنگ میں پھر طواف 289