دعائیہ سیٹ — Page 257
ہوئی کہ اس نے کہا کہ اس کے ہاتھ کاٹ دو۔چنانچہ اس کے ہاتھ کاٹ دیئے گئے گوخدا تعالیٰ پر کسی کے گندہ اور ناپاک ہونے کا کوئی اثر نہیں ہو سکتا مگر خدا تعالیٰ ہر ایک گند اور ہر ایک ناپاکی کو سخت ناپسند کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ اسلام نے تمام عبادتوں کے لئے صفائی کی شرط ضروری قرار دی ہے۔جس طرح وہ شخص جو پیشاب سے بھرے ہوئے کپڑوں کے ساتھ کھڑا ہو کر نماز پڑھتا ہے اس کی نماز قبول نہیں ہوتی۔اسی طرح وہ دعا ئیں جو ایسی حالت میں کی جائیں وہ بھی قبول نہیں ہوتیں بلکہ جب کوئی انسان گندی حالت میں خدا کے حضور پیش ہوتا ہے تو بجائے فائدہ اٹھانے کے وہاں سے نکال دیا جاتا ہے۔یہی سر ہے کہ صوفیاء نے دعائیں کرنے کالباس الگ بنا رکھا ہوتا ہے جسے خوب صاف ستھرا رکھتے اور خوشبو میں لگاتے ہیں تو دعا کے قبول ہونے کا یہ بھی ایک طریق ہے کہ دعا کرنے سے پہلے انسان اپنے کپڑوں کو صاف ستھرا کر لے جو شخص غریب ہے وہ اس طرح کر سکتا ہے کہ ایک الگ جوڑا بنا رکھے اور اسے صاف کر لیا کرے اس طرح دعا زیادہ قبول ہوتی ہے۔چھٹا طریق دعا پھر دعا کی قبولیت کے لئے ایک اور طریق ہے اور وہ یہ کہ دعا کے لئے ایک ایسا وقت اور جگہ انتخاب کرے جہاں خاموشی ہو مثلاً اگر دن کا وقت ہے تو جنگل میں کسی ایسی جگہ چلا جائے جہاں سمجھے کہ کوئی میرے خیالات میں خلل انداز نہیں ہو سکے گا یا رات کے وقت جبکہ سب لوگ سوئے ہوں دعا کرے اس طرح یہ ہوتا ہے کہ خیالات 257