دعائیہ سیٹ — Page 254
چوتھا طریق دعا چوتھا گر یہ ہے کہ انسان خدا تعالیٰ کی حمد کرے یہ بھی ایک عام طریق ہے جو اسلام کی تعلیم سے بھی معلوم ہوتا ہے اور فطرت انسانی میں بھی پایا جاتا ہے۔دیکھو فقراء جب کچھ مانگنے آتے ہیں تو جس سے مانگتے ہیں اس کی بڑی تعریف کرتے ہیں۔کبھی اسے بادشاہ بناتے ہیں کبھی اس کی بلندشان ظاہر کرتے ہیں۔کبھی کوئی اور تعریفی کلمات کہتے ہیں۔حالانکہ جو کچھ وہ کہتے ہیں اس میں وہ کوئی بات بھی نہیں پائی جاتی۔مگر مانگنے والا اس طرح کرتا ضرور ہے اور ساتھ ہی اپنے آپ کو بڑا محتاج اور سخت حاجتمند بھی ظاہر کرتا ہے کیونکہ سمجھتا ہے کہ اس طرح کرنے سے میں اپنے مخاطب کو رحم اور بخشش کی طرف متوجہ کرلوں گا اور اللہ تعالیٰ کی تو جس قدر بھی تعریف کی جائے وہ کم ہوتی ہے کیونکہ وہی سب خوبیاں اپنے اندر رکھتا ہے اور اسی لئے دوسرے لوگوں کی جو تعریف ہوتی ہے۔وہ سچی اور جھوٹی دونوں طرح کی ہو سکتی ہے مگر خدا تعالیٰ کی جو تعریف بھی کی جائے وہ سب سچی ہی ہوتی ہے، اس لئے جب کبھی دعا کی ضرورت ہو تو دعا کرنے سے پہلے خدا تعالیٰ کی حمد کر لینی چاہئے چنانچہ سورہ فاتحہ سے ہمیں یہ نکتہ معلوم ہوتا ہے سورہ فاتحہ وہ سب سے بڑی دعا ہے جو خدا تعالیٰ نے اپنے بندوں کو سکھائی ہے اور ہر روز کئی بار پڑھی جاتی ہے اس میں اَلحَمدُ لِلهِ رَبِّ الْعَلَمِينَ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ - ملِكِ يَوْمِ الدِّينِ - إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِين - اهْدِنَا القِرَاط الْمُسْتَقِيمَ - صِرَاطَ الَّذِينَ أَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ 254