دعائیہ سیٹ

by Other Authors

Page 245 of 312

دعائیہ سیٹ — Page 245

ہے خواہ پچاس سال ہی کیوں نہ دعا کرتا رہے یہی یقین رکھے کہ خدا میری دعا ضرور سنے گا۔یہ خیال بھی اپنے دل میں نہ آنے دے کہ نہیں سنے گا اگر چہ جس کام یا مقصد کے لئے وہ دعا کرتا ہو وہ بظاہر ختم شدہ ہی کیوں نہ نظر آئے پھر بھی دعا کرتا ہی جائے۔ایک بزرگ کا واقعہ لکھا ہے ایک بزرگ ہر روز دعا مانگا کرتے تھے۔ایک دن جبکہ وہ دعا مانگ رہے تھے ان کا ایک مرید آکر ان کے پاس بیٹھ گیا اس وقت ان کو الہام ہوا جو اس مرید کو بھی سنائی دیا۔لیکن وہ ادب کی خاطر چپکا ہو رہا اور اس کے متعلق کچھ نہ کہا۔دوسرے دن پھر جب انہوں نے دعا مانگنی شروع کی تو وہی الہام ہوا جسے اس مرید نے بھی سنا۔اس دن بھی وہ چپ رہا۔تیسرے دن پھر وہی الہام ہوا۔اس دن اس سے نہ رہا گیا۔اس لئے اس بزرگ کو کہنے لگا کہ آج تیسرا دن ہے کہ میں سنتا ہوں ہر روز آپ کو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ میں تمہاری دعا قبول نہیں کروں گا۔جب خدا تعالیٰ نے یہ فرما دیا ہے تو پھر آپ کیوں کرتے ہیں جانے دیں۔انہوں نے کہا۔نادان تو تو صرف تین دن خدا کی طرف سے یہ الہام سن کر گھبرا گیا ہے اور کہتا ہے کہ جانے دو دعاہی نہ کرومگر مجھے تیس سال ہوئے ہیں یہی الہام سنتے لیکن میں نہیں گھبرایا اور نہ نا امید ہوا ہوں خدا تعالیٰ کا کام قبول کرنا ہے اور میرا کام دعامانگنا۔تو خواہ مخواہ دخل دینے والا کون ہے؟ وہ اپنا کام کر رہا ہے میں اپنا کام کر رہا ہوں۔لکھا ہے دوسرے ہی دن الہام ہوا کہ تم نے تیس سال کے عرصہ میں جس قدر دعائیں کی تھیں ہم نے وہ سب قبول کر لی ہیں۔تو اللہ سے کبھی نا امید نہیں ہونا 245