دعائیہ سیٹ

by Other Authors

Page 238 of 312

دعائیہ سیٹ — Page 238

مگر یہ کوئی ایسا طریق نہیں ہے جس کے متعلق ہر ایک انسان کو کہہ دیا جائے کہ اس طرح کیا کرو کیونکہ یہ مرتبہ سے تعلق رکھتا ہے جس کا پانا کسی انسان کے اپنے اختیار میں نہیں پس جبکہ یہ انسانی اختیار میں ہی نہیں تو اس پر عمل کرنا یا کر سکنے کے کیا معنے ؟ اس لئے میں یہ طریق بھی نہیں بتاؤں گا بلکہ وہ بتاؤں گا جس میں بندے کا اختیار اور تصرف ہولیکن اس سے یہ نہیں ہوگا کہ ساری کی ساری دعائیں قبول ہو جاتی ہیں بلکہ یہ کہ زیادہ سے زیادہ قبول ہوتی ہیں۔پہلا طریق دعا پس سب سے پہلا طریق جو میں بتانا چاہتا ہوں وہ اسی آیت میں ہے جو میں نے ابھی پڑھی ہے، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِي فَإِنِّي قَرِيبٌ أَجِيبُ دَعْوَةَ الدَّاعِ إِذَا دَعَانِ فَلْيَسْتَجِيبُوا لِي وَلْيُؤْمِنُوا بِي لَعَلَّهُمْ يَرْشُدُونَ (سورۃ البقرہ آیت 187 ) میرے بندے جب میری نسبت سوال کریں یعنی کہیں کہ خدا کس طرح دعا قبول کرتا ہے تو کہو فَانِي قَرِیب میں سب سے بہتر مدعا کو پورا کر سکتا ہوں کیونکہ میری ایک صفت یہ بھی ہے کہ میں ہر ایک چیز کے قریب ہوں دعا کرنے والے کے بھی اور جس مدعا کے لئے دعا کی جائے اس کے بھی۔یہاں ایک سوال ہو سکتا تھا اور وہ یہ کہ ہر ایک قریب ہونے والا تو فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ایک چپڑاسی بادشاہ کے دربار میں جاتا ہے لیکن وہ ایسا نہیں کر سکتا کہ کسی کرسی پر بیٹھ سکے اسی طرح چتر اٹھانے والا وزیر سے بھی زیادہ بادشاہ کے قریب بیٹھا ہوتا ہے مگر 238